ہم نے پچھلے حصے کے آخر میں پڑھا تھا کہ سکنیاہ بن عیلام نے کہا تھا کہ اسرائیل کے لئے ابھی بھی امید باقی ہے۔ جس جس نے بھی اجنبی عورتوں سے بیاہ کیا ہے وہ ان کو اور انکی اولاد کو دور کرنے کے لئے اپنے خدا سے عہد باندھیں۔ آپ کے خیال میں کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ ان عورتوں کو اجنبی پکارا گیا ہے؟ روت کی کتاب پڑھیں تو معلوم پڑے گا کہ روت موآبی تھی وہ بھی تو یہودی نہیں تھی مگر یہودیوں نے اسے قبول کیا۔ نئے عہد نامے کے مطابق اسے خدا کا فضل کہا جاتا ہے۔ کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ عزرا کی کتاب میں درج یہ عورتیں، یہودی مردوں کے ساتھ شادی کرنے کے بعد بھی اجنبی پکاری گئیں ، نہ صرف وہ بلکہ انکی اولاد بھی؟ یہ بات یہودی لوگ بھی بہت اچھی طرح سے جانتے تھے کہ یہودی گھرانے میں پیدا ہونا صرف اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ کوئی یہودی ہے بلکہ یہوواہ خدا کو ماننا اور اسکے حکموں کو اپنانا، انسان کو یہودی بناتا ہے۔ استثنا 7:4 میں خداوند نے وجہ بیان کی کہ وہ کیوں نہیں چاہتے کہ اسکے لوگ غیر قوموں میں شادیاں کریں۔ اس میں لکھا ہے؛
کیونکہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پیروی سے برگشتہ کردینگے تاکہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں۔ یوں خداوند کا غضب تم پر بھڑکیگا اور وہ تجھکو جلد ہلاک کردیگا۔ عزرا 10 باب – دوسرا حصہ پڑھنا جاری رکھیں

