عزرا 3 باب – دوسرا حصہ

image_pdfimage_print

پچھلے حصے میں ہم نے پڑھا تھا کہ بنی اسرائیل نے خداوند کے مذبح بنایا تھا اور سب اکٹھے ہوئے تھے کہ شریعت کے مطابق مذبح پر سوختنی قربانیاں چڑھائیں۔ عزرا 3:4 میں ہمیں ذکر ملتا ہے کہ انھوں نے خیموں کی عید منائی اور سوختنی قربانیاں گن گن کر جیسا جس دن فرض تھا دستور کے مطابق چڑھائیں۔

میں نے پچھلے حصے میں خداوند کی مقرر کردہ ان تین عیدوں کا ذکر کیا تھا جو کہ عبرانی کیلنڈر کے ساتویں مہینے میں منائیں جاتی ہیں۔

اگر آپ کو تھوڑی بہت عبرانی پڑھنی آتی ہے تو شاید آپ کو علم ہو کہ یشوعا کو عبرانی میں ایسے "ישוע” لکھا جاتا ہے۔ عزرا 3:2 میں "یشوع بن یوصدق” میں "یشوع” کو جو کہ اس وقت سردار کاہن تھا عبرانی کلام میں ایسے ہی لکھا گیا ہے۔ میں نے ذکر کیا تھا کہ حجی اور زکریاہ اس دور کے نبی تھے۔ ان نبیوں کے صحیفوں میں ہمیں "یشوع بن یوصدق ” کے نام کے ہجے ذرا مختلف نظر آتے ہیں وہاں پر "یشوع” کے نام کو ایسے” יהושע” لکھا گیا ہے جو کہ "یہوشوعا” پڑھا جاتا ہے۔ "יהו” یہو، یہوواہ کے نام کا حصہ ہے ۔ یہوواہ کو عبرانی میں ایسے”יהוה” لکھا جاتا ہے۔ آپ کو اس میں پہلے تین عبرانی حروف "یہو” نظر آرہے ہونگے۔ اگر آپ نے یسوع مسیح کے اصل نام سے متعلق میرا آرٹیکل "یسوع، یشوعا یا یہوشوعا” پڑھا ہے تو میں نے اس میں ذکر کیا تھا کہ فرشتے نے یوسف کو بیٹے کا نام "یشوعا” رکھنے کو کہا تھا۔ میں نے ذکر کیا تھا کہ "یشوعا” کے معنی ہیں "نجات” اور "یہوشوعا” کے معنی ہیں "یہوواہ نجات ہے” ۔ کلام میں یشوع بن یوصدق کے نام کے ہجے ادل بدل کے ساتھ نبوتی طور پر استعمال ہوئے ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انبیا کے تمام صحیفے روح القدس کی مدد سے لکھے گئے تھے۔ ہم اس مطالعے میں ا ن تمام باتوں کی گہرائی میں نہیں جائیں گے۔ اسکو بیان کرنے کا میرا مقصدصرف اس بات کی ضرورت کو سمجھانا ہے کہ ہم صرف اردو ترجمے تک رہ کر کلام کا مطالعہ نہیں کر سکتے۔ اگر کلام کی گہرائی میں جانا چاہتے ہیں تو عبرانی زبان کا تھوڑا بہت علم اچھا ہے۔

آپ کو اسی باب میں سوختنی قربانیوں ، رضا کی قربانیوں اور دائمی سوختنی قربانیوں کا حوالہ بھی ملے گا۔ یہ تمام قربانیاں ایک جیسی نہیں ہیں۔ انکو چڑھانے کا مقصد ہمیں احبار کی کتاب میں نظر آتا ہے۔ ہم اسکے بارے میں مطالعہ احبار کی کتاب کے مطالعے کے دوران میں کریں گے۔ گو کہ یہ لوگ اسیری میں سے واپس آئے تھے مگر وہ پھر بھی شریعت کی تعلیم سے واقف تھے اور انھوں نے ویسا ہی کرنا چاہا جیسا کہ خداوند کی شریعت کی تعلیم تھی۔

انھوں نے خداوند کی ہیکل کی بنیاد ڈالنے کے لئے معماروں اور بڑھیوں کو نقدی دی اور شاہ فارس خورس کے حکم کے مطابق دیودار کے لٹھے لبنان سے لانے کے انتظامات کئے۔ داؤد بادشاہ نے لاویوں کے قبیلے کی ترتیب دی تھی جو کہ ہیکل کے مختلف کاموں کے لئے منسب کئے گئے تھے۔ آپ اس ترتیب کے بارے میں جاننے کے لئے 1 تواریخ 23 باب سے پڑھنا شروع کر سکتے ہیں۔ عزرا 3:10 سے 11 میں لکھا ہے؛

سو جب معمار خداوند کی ہیکل کی بنیاد ڈالنے لگے تو انہوں نے کاہنوں کو اپنے اپنے پیراہن پہنے اور نرسنگے لئے ہوئے اور آسف کی نسل کے لاویوں کو جھانجھ لئے ہوئے کھڑا کیا کہ شاہِ اسرائیل داؤد کی ترتیب کے مطابق خداوند کی حمد کریں۔ سو وہ باہم نوبت بہ نوبت خداوند کی ستایش اور شکرگذاری میں گا گا کر کہنے لگے کہ وہ بھلا ہے کیونکہ اسکی رحمت ہمیشہ اسرائیل پر ہے۔ جب وہ خداوند کی ستایش کر رہے تھے تو سب لوگوں نے بلند آواز سے نعرہ مارا اسلئے کہ خداوند کے گھر کی بنیاد پڑی تھی۔

لوگوں نے خوش و خرمی سے خداوند کے گھر کی بنیاد ڈالی اور بنیاد پڑنے پر خوشی کے نعرے مارے تھے مگر بہت سے عمر رسیدہ لوگ جنہوں نے سلیمان بادشاہ کے ہاتھوں سے بنی پہلی ہیکل کو دیکھا ہوا تھا وہ چلا چلا کر رونے لگے کیونکہ اسکی شان و شوکت پہلی ہیکل جیسی نہ تھی۔ حجی 2:3 سے 9 آیات میں ایسے لکھا ہے؛

کہ تم میں سے کس نے اس ہیکل کی پہلی رونق کو دیکھا؟ اور اب کیسی دکھائی دیتی ہے؟ کیا تمہاری نظر میں ناچیز نہیں ہے؟ لیکن ائے زربابل حوصلہ رکھ اور ائے ملک کے سب لوگو حوصلہ رکھو خداوند فرماتا ہے اور کام کرو کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہوں رب الافواج فرماتا ہے۔ مصر سے نکلتے وقت میں نے تم سے جو عہد کیا تھا اسکے مطابق میری وہ روح تمہارے ساتھ رہتی ہے ہمت نہ ہارو۔ کیونکہ رب الافواج یوں فرماتا ہےکہ میں تھوڑی دیر میں پھر ایک بار آسمان و زمین اور بحر و بر کو ہلا دونگا۔ میں سب قوموں کو ہلا دونگا اور انکی مرغوب چیزیں آئینگی اور میں اس گھر کو جلال سے معمور کرونگا رب الافواج فرماتا ہے۔ چاندی میری ہے اور سونا میرا ہے رب الافواج فرماتا ہے۔ اس پچھلے گھر کی رونق پہلے گھر کی رونق سے زیادہ ہوگی رب الافواج فرماتا ہے اور میں اس مکان میں سلامتی بخشونگا رب الافواج فرماتا ہے۔

ہر کام کا صلہ خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ کوئی کام نہیں تو کوئی صلہ بھی نہیں۔ شاید آپ نے بھی ابھی تک جتنا عزرا کے 1 باب سے 3 باب میں پڑھا ہے آپ کو بھی وہی باتیں نظر میں آئیں ہونگی جو کہ میری نظر میں سے گزری ہیں۔
صحیح مقرر کردہ وقت پر خداوند نے اپنے لوگوں کو اسیری سے نکال کر خداوند کی ہیکل(مقدس) کی تعمیر کا کہا، اسکے لوگوں نے خداوند کے لئے مذبح کھڑا کیا اور قربانیاں چڑھائیں۔ خداوند کی ہیکل کی بنیاد ڈالتے ہوئے انھوں نے خداوند کی حمد و ستایش اور شکرگذاری میں گیت گائے۔شاید آپ نے ابھی خداوند کو اپنا نجات دہندہ قبول کیا ہے۔ خداوند نے آپ کو گناہ کی اسیری سے نکالا ہے۔ آپ اگر اسکا مقدس بننا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے آپ کو خداوند کے لئے تیار کرنا ہے اور اسکی حضوری میں اپنے لبوں سے(دعا کی) قربانی گذراننی ہے کہ اسکے حضور میں حیرت انگیز خوشبو ٹھہرے۔ اور اپنے دل و دماغ میں اسکے حکموں (توریت جو کہ کلام کی بنیاد ہے) کو بٹھانا ہے اور خداوند کی حمد و ستایش کو جاری رکھنا ہے۔ اگر آپ کسی بھی لمحے ایسا محسوس کریں کہ آپ میں یہ سب کرنے کی ہمت نہیں تو ویسے ہی جیسے کہ خداوند نے حجی نبی کی معرفت اپنے لوگوں سے کہا وہ آپ سے بھی کہتے ہیں ” میں نے تم سے جو عہد کیا تھا اسکے مطابق میری وہ روح تمہارے ساتھ رہتی ہے ہمت نہ ہارو۔” ہمت مت ہاریں خداوند یہوواہ پاک خدا آپ کی بھی سلامتی ہی چاہتے ہیں۔

میری آپ کے لئے یہی دعا ہے کہ خداوند کی روح ہمیشہ آپکے ساتھ رہے اور آپ ہمت نہ ہاریں بلکہ اسکی سچائی میں آگے بڑھتے چلیں، یشوعا کے نام میں۔ آمین

ہم اگلے ہفتے عزرا کی کتاب کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔