عزرا 7 باب

image_pdfimage_print

آپ کلام میں سے عزرا کا 7 باب مکمل خود پڑھیں۔

ہمارا ساتواں باب شاہِ فارس ارتخششتا کے دورِ سلطنت سے عزرا کی کہانی کو بیان کرتا ہے۔ عزرا کے پہلے 6 ابواب میں عزرا کا نام نہیں ملتا بلکہ 7 باب  میں اسکا نام اسکے نسب نامے کے ساتھ ملتا ہے۔ میں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ اسیری سے واپس آئے لوگ تین گروہوں میں آئے تھے۔ پہلا زربابل کی قیادت میں، دوسرا عزرا کی اور تیسرا نحمیاہ کی قیادت میں آیاتھا۔

ہمیں پہلی 6 آیات میں   عزرا کے بارے میں یہ جاننے کو ملتا ہے کہ عزرا ،  سردار کاہن ہارون جو کہ موسیٰ نبی کے بھائی تھے،  انکی نسل سے ہے۔  وہ ہارون کے بیٹے الیعزر کے بیٹے فینحاس کے خاندان  سے تھے۔ آپ کو  یہ نسب نامہ   1 تواریخ کے 6 باب میں بھی نظر آئے گا۔  سرایاہ ، عزرا کا باپ نہیں وہ شاید پردادا ہو۔ آپ کو چند نام اس نسب نامے میں نہیں نظر آئیں گے۔  میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ کلام  میں درج نسب نامے  بعض اواقات کسی اہم بات کو اجاگر کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔    عزرا ، ہارون کی نسل سے تھا  جن کے ذمے خداوند نے کہانت سونپی تھی اور صرف یہی بات اس نسب نامے میں اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔  عزرا 7:6 میں ہمیں لکھا ملتا ہے کہ؛

یہی عزرا بابل سے گیا اور وہ موسیٰ کی شریعت میں جسے خداوند اسرائیل کے خدا نے دیا تھا ماہرِ فقیہ تھا اور چونکہ خداوند اسکے خدا کا ہاتھ اس پر تھا بادشاہ نے اسکی سب درخواستیں منظور کیں۔

 ویسے تو ہمیں عزرا 3:2 میں یشوع بن یوصدق کا بھی ذکر ملتا ہے جو کہ  اپنے بھائیوں کے ہمراہ کاہن تھا جو کہ سرایاہ کا  پوتا  تھا۔ عزرا، سرایاہ کے دوسرے بیٹے کی اولاد  میں سے ہے۔ اور دونوں ہی ہارون کی نسل سے ہیں۔ عزرا ، بابل سے یروشلیم کی طرف پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو نکلا مگر یروشلیم پانچویں مہینے کی پہلی تاریخ کو پہنچا۔ اتنا لمبا سفر اور پھر ارتخششتا بادشاہ کی سلطنت کے دور میں اسکی حثیت کوئی اتنی معمولی نہ ہو گی کہ بادشاہ نے اسکی تمام درخواستوں کو منظور کیا،  آخر کیا وجہ تھی کہ عزرا نے اتنا لمبا سفر کرنے کی ٹھانی؟  عزرا کا  واپس یروشلیم آنے کا اصل مقصد خداوند کے گھر کی تعمیر نہیں تھا بلکہ خداوند کے گھر کی عبادت  میں موسیٰ کی شریعت کو صحیح طور پر نافذ کرنا تھا۔ عزرا کو خداوند نے ایک لیڈر چنا تھا جو کہ اسکے کلام کو اچھی طرح جانتا تھا۔ اسیری میں رہتے ہوئے بھی اس نے موسیٰ کی شریعت کو نہ چھوڑا ۔  عزرا 7:10 میں لکھا ہے؛

اسلئے کہ عزرا آمادہ ہوگیا تھا کہ خداوند کی شریعت کا طالب ہو اور اس پر عمل کرے اور اسرائیل میں آئین اور احکام کی تعلیم دے۔

عزرا خداوند کی خوشنودی کا طالب تھا۔  یعقوب  1:22  سے 25 میں لکھا ہے؛

لیکن کلام پر عمل کرنے والے بنو نہ محض سننے والے جو اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔ کیونکہ جو کوئی کلام کا سننے والا ہو اور اس پر عمل کرنے والا نہ ہو وہ اس شخص کی مانند ہے جو اپنی قدرتی صورت آئینہ میں دیکھتا ہے۔ اسلئے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھ کر چلا جاتا اور فوراً بھول جاتا ہے کہ میں کیسا تھا۔ لیکن جو شخص آزادی کی کامل شریعت پر غور سے نظر کرتا رہتا ہے وہ اپنے کام میں اسلئے برکت پائے گا کہ سنکر بھولتا نہیں بلکہ عمل کرتا ہے۔

ہمیں عزرا 7:7 میں ذکر ملتا ہے کہ بنی اسرائیل اور کاہنوں اور لاویوں اور گانے والوں اور دربانوں اور نتنیم میں سے کچھ لوگ ارتخششتا بادشاہ کے پاس گئے تھے۔ اور  ارتخششتا بادشاہ نے عزرا کاہن اور فقیہ کو یہ  خط میں لکھ کر دیا کہ وہ ارتخششتا بادشاہ یہ فرمان جاری کر رہا ہے کہ اسرائیل کے جو جو لوگ اور انکے کاہن اور لاوی جو بادشاہ کی مملکت میں ہیں ، واپس یروشلیم جانا چاہتے ہیں، عزرا کے ساتھ جائیں۔ عزرا کے لئے بادشاہ نے کہا کہ وہ بادشاہ اور سات مشیروں کی طرف سے بھیجا جاتا  ہے  تاکہ وہ اپنے خدا کی شریعت کے مطابق یہوداہ اور یروشلیم کا حال دریافت کرے۔

بادشاہ کے خط میں اسطرح سے لکھنے سے بادشاہ اس بات کی یقین دہانی لوگوں کو کروانا چاہتا تھا کہ عزرا کو بھیجنے اور خدا کی شریعت کے مطابق قانون نافذ کرنے والا وہی ہے تاکہ لوگ عزرا کی بات کو رد نہ کریں۔   بادشاہ اور ان مشیروں نے  اسرائیل کے خدا  کو  خوشی سے چاندی اور سونا بھی نذر کیا۔ عزرا کو خداوند کے گھر میں قربانیاں  چڑھانے کو کہا گیا۔ اور کہا کہ اسے جس چیز کی بھی اور ضرورت پڑے وہ شاہی خزانہ سے لے۔ ارتخششتا بادشاہ کی نظر میں بھی خدا آسمان کا خدا تھا اور وہ اسکے غضب کو اپنی  اور شاہزادوں کی مملکت  پر بھڑکتا دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔

 میں آج کل لوگوں کو جب خدا کے خلاف بے جا باتیں کرتا سنتی ہوں تو ہمیشہ خیال آتا ہے کہ انھیں کیوں کوئی خوف نہیں کہ خدا کا غضب انکے خلاف بھڑک سکتا ہے۔ کیوں لوگ اپنے آپ کو خدا کا بلا وجہ دشمن بناتے ہیں؟ ہماری اس کہانی میں ہمارے پاس ان بادشاہوں کی مثال سامنے ہے جنہوں نے  خداوند کو نہ جانتے ہوئے بھی ، خدا کے غضب کو کسی بھی طرح بھڑکنے نہ دیا بلکہ اپنی پوری کوشش کی کہ اسکو  نذرانے  اور قربانیاں پیش کر سکیں تاکہ وہ  انھیں بھی برکت دیں۔ بادشاہ نے عزرا کو اختیار دے کر بھیجا تھا تاکہ وہ خداوند کی شریعت انکو بھی سکھائے جو اسے نہ جانتا ہو۔ اس نے تو ایسے شخص کو بلاتوقف قانونی سزا دینے کا حکم جاری کیا۔

عزرا نے اس باب کے آخر میں خاص خداوند کو مبارک کہا کہ خداوند نے بادشاہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ وہ خدا کے گھر کو آراستہ کرے۔ عزرا کو  اس بات کا بھی احساس تھا کہ خداوند کی رحمت  اور فضل اس پر ہے تبھی یہ سب کچھ ممکن ہوا ہے۔

۔ ہم اگلے ہفتے عزرا کے 8 باب کا مطالعہ کریں گے۔ میری خداوند سے دعا ہے کہ عزرا کی طرح آپ بھی خداوند کی شریعت کے طالب ہوں اور اس پر عمل کرنے والوں میں سے ٹھہریں، یشوعا کے نام میں۔ آمین