image_pdfimage_print

Shazia Lewis کی تمام پوسٹیں

پرشاہ:   وا-عیرا،  וָאֵרָא،  Va’era

توراہ، ہاف تاراہ، بریت خداشاہ:

پرشاہ:   وا-عیرا،  וָאֵרָא،  Va’era

شیموت، کے بعد کے پرشاہ کا نام ہے "وا-عیرا” (امید ہے کہ اردو میں میرا تلفظ ٹھیک ہے)۔ اس عبرانی لفظ کا مطلب ہے "اور میں ظاہر ہوا(دکھائی دیا)” کیونکہ ہمارا یہ پرشاہ خروج 6:2 آیت سے شروع ہوتا ہے جس میں  خداوند نے موسیٰ نبی  کو کہا کہ وہ (خدا) ابرہام، اضحاق اور یعقوب کو خدائ قادرمطلق کے طور پر دکھائی دیا۔ آپ کلام میں سے ان حوالوں کو پڑھیں گے۔

توراہ-  خروج 6:2 سے 9:35

ہاف تاراہ- حزقی ایل 28:25 سے 29:21

بریت خداشاہ- مکاشفہ 16:21 اور رومیوں 9:14 سے 33

اپنی روحانی خوراک کے لئے ان حوالوں کو پڑھ کر ساتھ میں  ان باتوں کو سوچیں۔

  • خداوند موسیٰ  نبی  پر ظاہر ہوئے  تاکہ وہ اپنے اس عہد کو جو اس نے بنی اسرائیل سے کیا تھا پورا کر سکیں۔ خدا نے موسیٰ نبی  کو بنی اسرائیل کے پاس بھیجا کہ وہ انکو بتائیں  کہ خدا وند کیا کرنے لگے ہیں مگر بنی اسرائیل نے دل کی کڑھن اور غلامی کی سختی کے سبب سے موسیٰ نبی  کی بات نہ سنی۔ دل کی کڑھن۔۔۔۔۔ ہم لوگ دوسروں کی غلطیوں کو تو جلد پہچان لیتے ہیں مگر کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔  میں کتنے ہی مسیحیوں کے منہ سے سنتی ہوں کہ بنی اسرائیل خدا کے حکموں پر نہیں چلے وغیرہ، وغیرہ۔ یہ سب سچ ہے مگر کیا ہم اپنی غلطیوں پر ایک نظر ڈال سکتے ہیں کہ کب کب ہم خدا کی بات اپنے دل کی کڑھن  اور اپنے حالات کے سبب سے نہیں سنتے ؟
  • جب بنی اسرائیل نے موسیٰ نبی کی بات نہ سنی تو خدا نے موسیٰ نبی  کو کہا کہ فرعون کو جاکر کہے کہ بنی اسرائیل کو اپنے ملک سے جانے دے۔ پر موسیٰ  نبی نے خدا سے کہا بنی اسرائیل نے تو میری سنی نہیں تو فرعون کیونکر سنے گا۔   موسیٰ نبی  کو بنی اسرائیل کے رویہ سے تھوڑی بہت مایوسی ضرور ہوئی ہو گی تبھی وہ اگلا قدم نہیں اٹھانا  چاہتے  تھے۔ کیا آپ کو بھی موسیٰ  نبی کی طرح مایوسی کا سامنا ہے؟ ہمت نہ ہاریں اپنا اگلا قدم اٹھائیں، خدا آپ کے ساتھ ہے ویسے ہی جیسے کہ وہ موسیٰ نبی  کے ساتھ تھے۔
  • آپکے خیال میں خدا نے کیوں کہا کہ وہ بنی اسرائیل کو انکے جتھوں کے مطابق ملک مصرسے نکال لائیں گے؟
  • آپ کے خیال میں کیوں خداوند نے موسیٰ نبی کو کہا کہ  "موسیٰ فرعون کے لئے گویا خدا ٹھہرا اور ہارون اسکا پیغمبر”؟
  • آخر کیا وجہ تھی کہ شروع کے کچھ معجزوں کے بعد فرعون کے جادوگر اور کوئی ویسا معجزہ نہ کر سکے جیسے موسیٰ نبی اور ہارون  خدا کے کہنے پر کر رہے تھے؟
  • ملک مصر پر خدا وندنے بلائیں نازل کرنا شروع کی ہر بار فرعون سودا کرتا کہ وہ بنی اسرائیل کو ملک مصر سے جانے دے گا "اگر” یہ بلا ملک مصر سے ٹل جائے۔ جیسے ہی بلا ٹلتی وہ اپنے کہے سے مکُر جاتا۔  شروع  میں خداوند  فرعون کے دل کو سخت کرتے تھے (کیا واقعی میں ایسا تھا؟) مگر بعد میں فرعون  خود اپنا دل سخت کرنا شروع ہوگیا تھا۔ آپ کے خیال میں اسکی کیا وجہ ہوسکتی تھی؟
  • اگر بنی اسرائیل ملک مصر میں خدا کے لئے قربانی چڑھاتے تو آپ کے خیال میں بنی اسرائیل کے لئے کس قسم کا خطرہ ہوسکتا تھا ؟ آخر کیوں ملک مصر سے نکل کر قربانی چڑھانی تھی؟
  • سات بلائیں نازل ہونے پر کچھ مصریوں کے دل بدل گئے کیونکہ لکھا ہے کہ ” جوجو خدا کے کلام سے ڈرتا تھا(خروج 9:20)۔۔۔” آپ کے خیال میں اس سے کتنے ہی مصری بھی ملک مصر کو چھوڑنے کے لئے  تیار ہوگئے ہونگے؟
  • فرعون نے پہلی دفعہ موسیٰ اور ہارون نبی سے کہا کہ اس نے گناہ کیا ہے( خروج 9:27) ۔ بہت سے لوگوں کو وقتی طور پر گناہ کا احساس ہوتا ہے مگر اسکے بعد جیسے ہی گناہ کا احساس انکے ذہنوں سے ہٹتا ہے وہ پھر سے دنیاوی باتوں میں مگن ہوجاتے ہیں۔  آپ کے خیال میں لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ کیا انکا ایک دفعہ کے گناہ کا احساس ،مستقبل کے گناہوں سے بچا سکتا ہے؟
  • لوگ اکثر کسی کی نرم دلی کو اسکی کمزوری سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ خدا نے جتنی بھی بلائیں اب تک نازل کیں، فرعون ان میں خدا کی نرم دلی کو خداوند کی کمزوری سمجھ رہا تھا ۔ فرعون کا گھمنڈ بڑھتا جا رہا تھا کہ وہ خدا کا اس طرح سے مقابلہ کرنا شروع ہوگیا تھا۔ کیا آپ بھی خدا کی طرف سے آئی مصیبت کے ختم ہونے کے بعد خدا کے حکموں سے ایک دم پھر جاتے ہیں یہ سوچ کر کہ خدا وند آپ کے خلاف اس سے زیادہ بڑھ کر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے؟ کیا آپ بھی انجانے میں خدا کے قہر کو بھڑکا رہے ہیں؟
  • ہاف تارہ کا حوالہ پڑھ کر سوچیں کہ فرعون کو غلط فہمی تھی کہ دریائے نیل اس نے بنایا ہے مگر خدا  نے ملک مصر کے خلاف اپنا فیصلہ سنایاکہ وہ اسکو ویران اور اجاڑ کر دیں گے۔ کتنی ہی بار ہم بھی فرعون کی طرح دھوکا کھاتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ کا کام ہماری اپنی محنت ہے، ہمیں اپنے کام میں اپنا ہاتھ تو نظر آتا ہے مگر خدا کا ہاتھ دکھائی نہیں دیتا۔ کلام میں لکھا ہے کہ "ہلاکت سے پہلے تکبر اور زوال سے پہلے خودبینی ہے (امثال 16:18) "۔ انسان کا گھمنڈ اسکو لے ڈوبتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ کبھی ملک مصر کی شان و شوکت تھی مگر اب وہ اپنی پرانی شان و شوکت کھو بیٹھا ہے کیونکہ حزقی ایل 29:15 میں لکھا ہے کہ وہ پھر قوموں پر حکمرانی نہ کریں اور اپنے تئیں بلند نہ کریگی۔ آپ کے لیے اس میں کیا سبق ہے؟
  • نئے عہد نامے میں مکاشفہ 16:21 کے مطابق ایک بار پھر سے انسان پر اولے نازل ہونے  ہیں مگر لکھا ہےکہ لوگ اولوں کی آفت کے باعث خدا کی نسبت کفر بکیں گے۔ ملک مصر پر آئی بلاؤں سے خدا نے بنی اسرائیل کو محفوظ رکھا تھا۔ خدا اپنے لوگوں کو ہر قسم کی بلا سے محفوظ رکھنا جانتا ہے۔  کیا آپ خدا کے لوگوں میں شمار ہوتے  ہیں؟
  • رومیوں کا حوالہ پڑھ کر سوچیں کہ کیا انسان ، خدا کو کسی بھی صورت میں قصور وار ٹھہرا سکتا ہے؟ چاہے فرعون یا پھر یہوداہ اسکریوتی انکی اپنی کرنی انکے آگے آئی۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

انسان  اپنا فیصلہ اپنی عادتوں کے مطابق کرتا ہے اور اس کا کیا ہوا فیصلہ اسکی   زندگی کو روپ دیتا ہے۔ میری آپ کے لیے دعا ہے کہ خدا آپ کی عادتوں کو کلام کے موافق بدلے اور آپ کو زیادہ سے زیادہ خدا کے حکموں کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہمت دے تاکہ آپ کی زندگی اسکے کلام کے مطابق روپ لے سکے، یشوعا کے نام میں آمین۔ شبات شلوم

آڈیو میسج سننے کے لئے پلے کے بٹن کو کلک کریں۔

موضوع: آپ خداوند کو کیسے پہچانتے ہیں؟ (آڈیو میسج 2018)

Topic: How do you know God? (Audio Message 2018)

پرشاہ- شیموت،  שְׁמוֹת،  Shemot

توراہ، ہاف تاراہ، بریت خداشاہ:

پرشاہ- شیموت،  שְׁמוֹת  Shemot,:

 عبرانی لفظ "شیموت” کا مطلب ہے "نام(ناموں)” کیونکہ ہمارا یہ پرشاہ اسرائیل کے بیٹوں کے ناموں سے شروع ہوتا ہے۔  ویسے ہی جیسے کہ عبرانی کیلنڈر کے پہلے ہفتے کے پرشاہ کا نام عبرانی میں توراہ کی پہلی کتاب  کے شروعات میں کتاب کے نام یعنی "بیرشیت(مطلب پیدائش)” پر ہے ویسے ہی توراہ کی دوسری کتاب کے شروعات کے ساتھ اس پرشاہ کا نام بھی توراہ کی کتاب پر ہی ہے۔ شیموت کو اردو  کلام میں "خروج”  لکھاگیا ہے۔ آپ کلام میں ان حوالوں کو پڑھیں گے۔ اپنی روحانی غذا کے لئے ان حوالوں کو پڑھ کر  ان باتوں کو سوچیں جو کہ میں نیچے درج کرنے لگی ہوں۔

توراہ- خروج 1:1 سے 6:1

ہاف تاراہ-  یسعیاہ 27:6 سے 28:13 اور 29:22 اور 23 آیات

بریت خداشاہ- اعمال 7:17 سے 35 اور 1 کرنتھیوں 14:18 سے 25

  • اسرائیل یعنی یعقوب سے 70 جانیں پیدا ہوئیں جن سے کئی قومیں نکلیں۔ اگر آپ کو یاد ہو تو میں نے پیدائش کے مطالعہ میں ذکر کیا تھا کہ  خدا نے ابرہام سے جو وعدہ کیا تھا کہ اس سے قومیں پیدا ہونگی کیسے اسرائیل سے پیدا ہونے والی قوموں سے مختلف ہیں۔ کچھ ہی عرصہ میں اسرائیل کی اولاد برومند اور کثیرالتعداد ہوگئی۔جب نئے بادشاہ نے جو کہ یوسف کو نا جانتا تھا اس نے یہ دیکھا تو اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم ان سے اس طرح پیش آئیں کہ یہ کبھی ہم پر غالب نہ آسکیں۔ جب جب خدا کے لوگ بڑھتے ہیں غیر قومیں /لوگ ان پر غالب آنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ کو بھی ایسا ہی اپنی زندگی میں محسوس ہوتا ہے کہ آپ ترقی کر رہے ہیں مگرغیر لوگ آپ کو دبانا چاہتے ہیں تاکہ آپ ان پر غالب نہ آسکیں؟
  • مصر کے بادشاہ نے عبرانی دائیوں کو حکم دیا کہ عبرانیوں کے اگر بیٹا پیدا ہو تو مار ڈالو اور اگر بیٹیاں  ہوں تو زندہ رہنے دو۔  ان دو دائیوں نے خدا کے خوف کی بنا ایسا نہ کیا اور بادشاہ سے جھوٹ بولا۔  خدا نے ان دائیوں کو اسکا صلہ دیا۔ کلام میں جھوٹ بولنا منع ہے اور قتل کرنا بھی۔ آپ کے خیال میں خدا نے دائیوں کے انکے جھوٹ بولنے کے باوجود کیوں برکت دی تھی؟
  • فرعون نے اسکے بعد حکم دیا کہ اگر عبرانیوں کے بیٹا پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دیا جائے اور بیٹی پیدا ہو تو اسے جیتا چھوڑ دیا جائے۔ موسیٰ  نبی انہی تنگ حالات میں پیدا ہوئے۔ مگر چونکہ خدا نے انکو اپنے مقصد  کے لئے پیدا کیا تھا خدا نے انکی ان تنگ حالات میں حفاظت کی۔ تکلیف میں انکی ماں نے انھیں ٹوکری میں ڈال کر دریا میں چھوڑ دیا جہاں فرعون کی بیٹی نے انکو اپنے بیٹے کے طور پر اپنا لیا۔ آپ  کو اپنی زندگی میں خدا کا کیا مقصد نظر آتا ہے؟ تنگ  حالات کا یہ مطلب نہیں کہ خدا وندآپ کی زندگی میں کام نہیں کر رہے۔ جیسے وہ موسیٰ کے ساتھ تھے ویسے ہی وہ آپ کے بھی ساتھ ہیں۔
  • موسیٰ نبی اپنے بھائیوں کے پاس باہر گئے اور جب انھوں نے انکی مشقتوں کو دیکھا اور ایک مصری کو ، عبرانی کو مارتے دیکھا تو ا نھوں نے مصری کو جان سے مار کر ریت میں چھپا دیا۔ اپنی طرف سے وہ اپنے عبرانی بھائیوں کی مدد کر رہے تھے مگر جب ایک دن اس نے دو عبرانیوں کو لڑتے دیکھا تو انھوں نے اس عبرانی سے جسکا قصور تھا پوچھا کہ تو اپنے ساتھی کو کیوں مار رہا ہے۔ اس پر عبرانی نے جواب دیا کہ تجھے کس نے ہمارا منصف مقرر کیا ہے؟ کیا تو مجھے بھی ویسے ہی مار ڈالنا چاہتا ہے جیسے تو نے اس مصری کو مارا تھا؟ موسیٰ نبی تب  یہ سوچ کر ڈرےکہ انکا بھید فاش ہوگیا ہے۔ فرعون نے انکو قتل کرنا چاہا مگر موسیٰ نبی  ملک مدیان بھاگ نکلے۔ موسیٰ نبی  جنکی مدد کرنا چاہتے  تھے انھی کی بدولت انکا راز فاش ہوگیا۔ آپ کے خیال میں تب  موسیٰ نبی  کی کیا حالت ہوئی ہوگی؟ کیا موسیٰ نبی  نے مصری کو مار کر ٹھیک کیا تھا؟ کیا آپ جنکی مدد کرنا چاہتے ہیں انھی کی بدولت بڑی مصیبت میں پھنس رہے ہیں؟ کیاآپ کا انکی مدد کرنے کا ارادہ  ویسا ہی ہے  جیسا کہ خدا نے انکے لیے سوچا ہے؟
  • موسیٰ نبی کی زندگی تو بظاہر مدیان میں جا کر بہتر ہوگئی کیونکہ انھوں نے وہاں شادی کی اور انکے بیٹےبھی ہوئے مگربنی  اسرائیل اپنی غلامی کے سبب سے آہ بھرنے لگے اور روئے اور خداوند  نے انکا رونا اور کراہنا سنا۔  آپ کے خیال میں خداوند  نے انکی غلامی پر پہلے کیوں نہیں نگاہ کی؟ آخر وہ کتنے عرصے سے فرعون کا ظلم برداشت کر رہے تھے، انکے رونے کی آواز پر  ہی کیوں خداوند  نے ان پر توجہ دی؟ اسرائیلیوں نے پہلے کیوں نہیں خداوند  کو یاد کیا، وہ کیوں ظلم کے بڑھنے تک انتظار میں بیٹھے رہے؟ آج مسیحی بھی ظلم و ستم کے بڑھنے کے انتظار میں بیٹھے ہیں کہ وہ خداوند کو مدد کے لئے پکاریں۔
  • پہاڑ حورب پر خداوند نے اپنے آپ کو موسیٰ نبی پر ظاہر کیا اور ان  پر اپنا نام  موسیٰ نبی کے پوچھنے پر بتایا۔ میں بہت سے مسیحیوں کو جانتی ہوں جنکو اپنے خداوند  کا اصل نام نہیں پتا۔ کیا آپ کو خدا کا نام پتہ ہے؟ کیا آپ نے خداوند سے انکا نام پوچھا ہے؟
  • خدا نے موسیٰ نبی کو کہا کہ وہ اپنے لوگوں میں واپس جائے اور انکو ملک مصر سے اس ملک میں لے کر جائے جسکا عہد خدا نے انکے باپ ابرہام، اضحاق اور یعقوب سے کیا تھا۔ موسیٰ نبی  نے خداوند کے حضور میں کتنے ہی بہانے بنائے کہ وہ یہ کام نہیں کر سکتے  یہ انکے لیے مشکل ہے۔ کیا آج آپ خدا کی حضوری میں ایسے ہی بہانے پیش کر رہے ہیں تاکہ آپ خداوند کی بلاہٹ کو ٹال سکیں؟
  • خدا نے موسیٰ نبی کو نشان دیے  اور ساتھ ہی میں انکو انکا بھائی ہارون مددگار کے طور پر دیا۔ موسیٰ نبی  پر خدا کا قہر بھڑکا تو خدا وند نے کہا کہ وہ انکو سکھاتے رہیں گے  کہ وہ کیا کیا کریں۔  کیا آپ آج موسیٰ نبی  کی طرح خدا کے قہر کو بھڑکا رہے ہیں؟ اگر وہ انکو بتاتے  اور سکھاتے رہے ہیں  کہ انھیں کیا کیا کرنا چاہیے تو کیا خداوند ایسا آپ کے ساتھ نہیں کر سکتے؟
  • موسیٰ نبی نے اپنے سسر سے اجازت لی اور اپنی بیوی اور بیٹوں کو لے کر مصر کو لوٹے۔ راستے میں خداوند نے موسیٰ کو مارنے کی کوشش  کی کیونکہ انھوں  نے  اپنے بیٹوں کاختنہ نہیں کروایا تھا۔ انکی جان انکی بیوی کی بنا پر بچ گئی۔ آپ کے خیال میں کے خداوند کے لیے ختنے کا  یہ قدم  کیوں اہمیت رکھتا تھا؟  کیا ختنہ آج بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے؟
  • موسیٰ نبی مصر میں ہارون سے ملے اور انھوں نے بنی اسرائیل کے بزرگوں سے وہ سب باتیں کہیں جو کہ خداوند نے موسیٰ  نبی سے کہیں تھیں۔ موسیٰ  نبی نے معجزے  کیے اور لوگوں کو انکا یقین آیا۔ آپ کے خیال میں معجزے خدا کے کام میں کیا اہمیت رکھتے ہیں؟
  • جب موسیٰ  نبی اور ہارون  نبی نے فرعون سے کہا کہ بنی اسرائیل کو جانے دے تاکہ وہ اپنے خدا کے حضور میں قربانیاں چڑھا سکیں تو فرعون نے نہ صرف انکار کیا بلکہ بنی اسرائیل پر اور بھی سختی عائد کر دی۔  غلامی سے آزادی  کے لئے بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔  جو غلامی میں ہوتے ہیں انکا حاکم انکو اور  بھی سختی دکھاتا ہے تاکہ وہ  تنگی کے باعث آزادی کا خیال بھی دل سے نکال ڈالیں یہ سوچ کر کہ انکی حالت پہلے بہتر تھی اور  اس آزادی کے خیال نے انھیں پہلے سے زیادہ مصیبت میں ڈال دیا ہے۔  جب خدا بھی انسان کو گناہ کی غلامی سے چھٹکارا دینا چاہتے ہیں  تو شیطان حالات کو اور  تنگ کر دیتا ہے تاکہ انسان آزادی کا سوچے بھی نہ۔  اگر آپ ابھی کسی قسم کی غلامی میں ہیں جہاں حالات اور تنگ ہوتے دکھائی دیتے ہیں تو بھروسہ رکھیں کہ آپ کی آزادی کا وقت نزدیک ہے۔
  • یسعیاہ کے حوالے میں لکھا ہے کہ "لوگ دانش سے خالی ہیں۔۔۔” آپ اپنے آپ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ آپ کے خیال میں "دانش” کی خدا کی نظر میں کیا تعریف ہے؟
  • یسعیاہ 28:8 سے 13 کو پڑھیں اور ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ اس میں آپ کے لئے کیا پیغام چھپا ہے؟ کیا آپ کے لئے خدا کا کلام حکم پر حکم، حکم پر حکم اور قانون پر قانون، قانون پر قانون ہے؟ کیا اس میں آپ کے لیے کوئی آرام ہے؟
  • نئے عہد نامے میں اعمال کے حوالے میں "وعدے کی معیاد پوری ہونے ” کا ذکر ہے۔ آپ کے خیال میں خدا کیوں ہمیشہ وعدے کی معیاد کے پورے ہونے کا انتظار کرتے ہیں؟ یہ کیونکر معنی رکھتا ہے؟ اپنے اردگرد کے حالات کو دیکھیں جس بھی ملک پر نظر ڈالیں گے آپ کو کسی نا کسی قسم کی افراتفری نظر آئے گی۔ آپ کے خیال میں کیا خداوند  وعدے کی معیاد کے پورے ہونے کا انتظار کر رہے ہیں  یا کہ پھر لوگوں کے رونے اور آہوں کا؟
  • خدا کے لوگوں کی تکلیف کبھی کبھی ایک غیر انسان یا قوم کے لئے نجات کا باعث بن سکتی ہے تاکہ وہ خداوند کے کام دیکھ کر اس بات کا اقرار کر سکیں کہ "بیشک خدا تم میں ہے (1 کرنتھیوں 14:25)”۔ کیا آپ کے خیال میں خدا آپ کی تکلیف کو دوسروں کی زندگی میں اپنی نجات اور جلال دکھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟ کیوں اور کیوں نہیں؟

میری خدا سے دعا ہے کہ اگر آپ کسی قسم کی تنگی سے گذر رہے ہیں تو وہ آپ کی بھی آہ کو سنیں  اور جلد آپ کی زندگی میں مسیحا کو بھیجے جو آپ کو غلامی /تنگی سے نجات دلا کر  ہمیشہ کی آزادی  فراہم کرے یشوعا کے نام میں۔ آمین

آڈیو میسج سننے کے لئے پلے کا بٹن کلک کریں۔

موضوع: آپ اس قابل ہیں۔ (آڈیو میسج 2018)

Topic: You are worth it (Audio Message 2018)

احبار 6 باب

آپ کلام مقدس سے احبار کا 6 باب مکمل خود پڑھیں۔

اگر آپ نے احبار کے پہلے پانچ باب کلام مقدس سے خود پڑھیں ہیں تو آپ کے ذہن میں بھی یہ بات آ رہی ہوگی کہ  اس باب میں قربانیوں کے بارے میں پھر سے احکامات درج ہیں جو کہ بظاہر  ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے کہ پچھلے ابواب میں درج ہیں تو پھر   اس میں دوبارہ کیوں درج کئے جا رہے ہیں۔ ایک اور بات جو شاید آپ نے نوٹ کی ہو   وہ یہ ہے کہ اس باب میں اور آگے یعنی  ساتویں باب تک قربانیوں کی ترتیب فرق ہے۔ خطا اور جُرم کی قربانی میں سے کاہن کو تو کھانے کا حکم ہے مگر قربانی لانے والے کا کوئی حصہ نہیں۔  میرے خیال میں  میں بہت زیادہ ان احکامات پر بات نہیں کرونگی کیونکہ میں نے سوچا   کہ آپ کو نئے عہد نامے سے یشوعا کی قربانی  میں ان تمام  قربانیوں کا تھوڑا سا عکس دکھا دوں۔ احبار 6 باب پڑھنا جاری رکھیں

احبار 5 باب

آپ کلام مقدس سے احبار 5 باب مکمل خود پڑھیں۔

ہم نے پچھلے باب میں نادانستہ خطاؤں کے کفارہ کے بارے میں پڑھا تھا اس باب میں ہم جُرم کی قربانی کے بارے میں پڑھیں گے۔ جُرم کی اس قربانی کو عبرانی میں  ” آشام، אשם Asham, ” پکارتے ہیں۔ قربانی کے لئے  عبرانی میں لفظ "قوربان” ہی ہے۔ خطا کی قربانی کی طرح یہ قربانی بھی لازمی قربانی ہے۔  چند خطاؤں کا  خاص ذکر ہم اس باب میں پڑھتے ہیں۔ خطاکا علم ہو یا نہ ہو تو بھی گناہ ہی گنا جائے گا۔ احبار 5:17 میں یوں لکھ ہے؛

اور اگر کوئی خطا کرے اور اُن کاموں میں سے جنہیں خداوند نے منع کیا ہے کسی کام کو کرے تو چاہے وہ یہ بات جانتا بھی نہ ہو تو بھی مجرم ٹھہریگا اور اسکا گناہ اسی کے سر لگیگا۔ احبار 5 باب پڑھنا جاری رکھیں

احبار 4 باب (دوسرا حصہ)

ہم نے پچھلے حصے میں  جانا کہ خطا کی قربانی ، نادانستہ سرزرد ہوئے گناہوں کے لئے چڑھائی جاتی تھی۔  یہ قربانی اور احبار 5 باب میں درج قربانی لازمی چڑھائی جاتی تھی جبکہ   سوختنی، نذر اور سلامتی کی قربانی لازمی نہیں تھیں ۔ یہ قربانیاں اپنی خوشی سے چڑھائی جاتی تھیں۔ اگر آپ نے احبار 4 باب مکمل پڑھا ہے تو آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ کاہن،  بنی اسرائیل کی ساری جماعت، سردار اور عام آدمی  جن سے نادانستہ خطا ہوئی ہو اسکو یہ قربانی چڑھانی تھی۔ کاہن  کی لائی خطا کی قربانی کو سب سے پہلے بیان کیا گیا ہے اور پھر بنی اسرائیل کی ساری جماعت کی خطا کی قربانی کو پھر سردار  کی خطا کی قربانی کو  اور آخر میں عام آدمی کی خطا کی قربانی کو بیان کیا گیا ہے۔  قربانی کے لئے خون کا  کفارہ لازمی تھا۔ خون زندگی کی نشانی ہے۔   یہ قربانی پچھلی تین قربانیوں کی طرح  راحت انگیز خوشبو کی آتشین قربانی ہرگز نہیں  تھی۔ گو کہ عام آدمی کی خطا کی قربانی راحت انگیز خوشبو کے طور پر بھی خداوند کے حضور پیش کی جاتی تھی (احبار 4:21)۔ احبار 4 باب (دوسرا حصہ) پڑھنا جاری رکھیں

احبار 4 باب (پہلا حصہ)

آپ کلام میں سے احبار کا 4 باب مکمل خود پڑھیں۔

آج ہم خطا کی قربانی کا کچھ مطالعہ کریں گے۔ میرے ساتھ احبار 4:2 کو دیکھیں، لکھا ہے؛

بنی اسرائیل  سے کہہ کہ اگر کوئی ان کاموں میں سے جنکو خداوند نے منع کیا ہے کسی کام کو کرے اور اس سے نادانستہ خطا ہو جائے۔

اس باب میں ہم نادانستہ خطا کی قربانی کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ خطا کے لئے عبرانی میں لفظ خطا ہی ہے۔ خطا یعنی وہ گناہ جو بُھول چوک سے ہوا ہے۔ نا چاہتے ہوئے بھی گناہ سرزرد ہوجائے تو اسکے لئے  یہ قربانی چڑھائی جاتی تھی۔ اور آج بھی یہ ہم پر عائد ہے۔  1 یوحنا 3:4 میں یوں لکھا ہے؛

جو کوئی گناہ کرتا ہے وہ شرع کی مخالفت کرتا ہے اور گناہ شرع کی مخالفت ہی ہے۔ احبار 4 باب (پہلا حصہ) پڑھنا جاری رکھیں

احبار 3 باب

آپ کلام میں سے احبار 3 باب مکمل خود پڑھیں۔

آج ہم سلامتی کی قربانی کے بارے میں پڑھیں گے جو کہ نر یا مادہ بیل یا گائے، بھیڑ، بکرا یا بکری کے برہ پر مشتمل تھی۔ اگر کوئی بہت امیر تھا تو وہ گائے یا بیل کی قربانی چڑھاتے  تھے اور اگر کوئی کم امیر تھا تو قربانی بھیڑ، بکرا یا بکری کی تھی۔   سلامتی کی قربانی کے  لئے عبرانی میں لفظ ” ذبیآخ شلامیم ،זבח  שלמים Zebach Shelamim, ” استعمال  ہوا ہے۔ شلامیم ، شلوم سے ہے جس کے معنی سلامتی کے ہیں۔  اسکو صلح کی قربانی بھی کہہ سکتے ہیں۔  عولا کی قربانی  میں صرف نر چوپائے استعمال کئے جا سکتے تھے مگر اس میں  نر یا ما دہ کسی کو بھی استعمال میں لایا جا سکتا تھا۔ یہ قربانی چڑھانا بھی لازمی نہیں تھا یہ بھی اپنی مرضی اور خوشی سے چڑھائی جاتی تھی۔ سلامتی کی قربانی بیماری سے شفا کے بعد، دشمن سے فتح یابی کے بعد یا پھر اسی قسم کی شکرگذاری میں  چڑھائی جا سکتی تھی ۔ یشوعا نے اپنے آپ کو ہماری خاطر قربان کیا تبھی پولس رسول یعنی ربی شاؤل رومیوں 5:1 میں کہتے ہیں؛

پس جب ہم ایمان سے راستباز ٹھہرے تو خدا کے ساتھ اپنے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے صلح رکھیں۔ احبار 3 باب پڑھنا جاری رکھیں

پرشاہ ویی-خائی

پرشاہ:  ویی-خی،   ויחי، Vayechi

یہ  ہمارے  عبرانی کیلنڈر کے بارہویں ہفتے کا پرشاہ ہے۔ ویی-خی کا مطلب ہے  "وہ جیا” کیونکہ یعقوب ملک مصر میں اور 17 برس تک جیا۔  یہ ہماری "بیرشیت” یعنی "پیدائش” کی کتاب کا آخری پرشاہ ہے۔ آپ کلام میں سے ان حوالوں کو پڑھیں گے اور جب آپ ان حوالوں کو پڑھیں تو اپنی روحانی خوارک کے لئے ان باتوں پر دھیان دیں جو میں نیچے درج کررہی ہوں۔

توراہ- پیدائش 47:28 سے 50:26

ہاف تاراہ-  1 سلاطین 2:1 سے 12 آیات

بریت خداشاہ- 1 پطرس 1 سے 9 آیات، عبرانیوں  11:21 سے 22 پرشاہ ویی-خائی پڑھنا جاری رکھیں

پرشاہ ویی-گاش

پرشاہ:  ویی-گاش، וַיִּגַּשׁ،  Vayigash

ویی-گاش، عبرانی کیلنڈر کے گیارہویں ہفتے کا پرشاہ ہے اور آپ کلام میں سے ان حوالوں کو پڑھیں گے۔

توراہ-  پیدائش 44:18 سے47:27

ہاف تاراہ-  حزقی ایل 37:15 سے 28

بریت خداشاہ- لوقا 6:12 سے 16

پرشاہ  ویی-گاش کا مطلب ہے "وہ نزدیک گیا”۔ جب آپ کلام میں سے ان حوالوں کو پڑھیں تو  خدا کے کلام کی ان باتوں پر دھیان دیں۔ پرشاہ ویی-گاش پڑھنا جاری رکھیں

پرشاہ می-کیتز

پرشاہ:    می-کیتز،  מִקֵּץ،  Miketz

می-کیتز، عبرانی کیلنڈر کے دسویں ہفتے کا پرشاہ ہے۔  اسکا مطلب ہے "آخر میں  یا بعد میں۔” آپ کلام میں سے ان حوالوں کو پڑھیں گے۔

توراہ- پیدائش 41:1 سے 44:17

ہاف تاراہ- 1 سلاطین 3:15 سے 4:1، زکریاہ 2:14 سے 4:7

بریت خداشاہ- متی 27:15 سے 46  ، رومیوں 10:1 سے 13

جب آپ کلام کے یہ حوالے پڑھیں تو  ان باتوں کو سوچیں کہ اس میں آپ کے لیے کیا روحانی پیغام چھپا ہے۔ پرشاہ می-کیتز پڑھنا جاری رکھیں