ہم نے نحمیاہ کے پچھلے حصے میں پڑھا تھا کہ بادشاہ نے نحمیاہ کو یروشلیم جانے کی اجازت دی اور ساتھ ہی میں شاہی جنگل سے لکڑی استعمال کرنےکی درخواست بھی منظور کی۔
دریا پار پہنچ کر نحمیاہ نے حاکموں کو بادشاہ کے بھیجے ہوئے پروانے دئے۔ نحمیاہ اکیلا نہیں تھا اسکے ساتھ بادشاہ کے بھیجے گئے فوجی سردار اور سوار تھے۔ عزرا کو تو بادشاہ سے محافظ مانگنے میں شرم آئی تھی مگر نحمیاہ کے لئے بادشاہ نے خود ہی یہ انتظام کر دیا تھا۔ نحمیاہ کو یہوداہ سے آئے ہوئے لوگوں سے اتنی تفصیل مل چکی ہوئی تھی کہ وہ پہلے سے ہی جان گیا تھا کہ اسے یروشلیم میں جا کر کیا کرنا ہے اور اسے کن چیزوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ہمیں سنبلط حورونی اور عمونی غلام طوبیاہ کے نام لکھے ملتے ہیں جو کہ نحمیاہ کے آنے کا سن کر رنجیدہ ہوئے تھے۔ علما کے کہنے کے مطابق سنبلط سامریہ کا گورنر تھا۔ طوبیاہ کے نام سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ وہ عمونی تھا۔ طوبیاہ شاید فارس کے بادشاہ کا شاہی غلام تھا تبھی اسکے نام کے ساتھ "غلام” لکھا ہے۔ ویسے ہی جیسے کہ سامری یہوداہ کے قبیلے کی واپسی پر خوش نہیں تھے یہ دونوں بھی کچھ خوش نہیں تھے۔ نحمیاہ کو اس بات کا اندازہ تھا تبھی وہ حاکموں کے لئے بادشاہ کے پروانے اپنے ہمراہ لایا تھا۔ نحمیاہ 2 باب (دوسرا حصہ) پڑھنا جاری رکھیں

