آپ کلام میں سے روت 2 باب پورا خود پڑھیں۔ میں وہی آیات لکھونگی جس کی ضرورت سمجھونگی۔
ہم نے پچھلے باب کے آخری حصے میں پڑھا تھا کہ نعومی اور روت واپس بیت لحم پہنچے۔ روت نے جانتے بوجھتے نعومی کے ساتھ آنا چاہا تھا۔ نعومی نے تو اسے صاف صاف بتا ہی دیا تھا کہ روت کا اسکے ساتھ رہنا روت کے لئے شاید فائدہ مند نہ ہو۔ نعومی نے روت کو اپنی دنیاوی خواہشات کی قربانی چڑھاتے دیکھا تھا۔ روت کو دنیاوی سے زیادہ روحانی خواہشات پوری کرنے میں خوشی تھی۔
بیت لحم واپس آکر اس نے اپنی ساس سے کہا کہ وہ اسے اجازت دے کہ وہ جا کر کسی کھیت میں کاٹنے والوں کے پیچھے پیچھے بالیں چنے۔ احبار 19:9 سے 10 میں خدا نے اپنے لوگوں کو اس بات کا حکم دیا تھا؛ (روت – 2 باب (پہلا حصہ پڑھنا جاری رکھیں

