image_pdfimage_print

Shazia Lewis کی تمام پوسٹیں

احبار 1 باب

آپ کلامِ مقدس سے احبار 1 باب مکمل خود پڑھیں۔ میں صرف وہی آیات لکھونگی جس کی ضرورت سمجھونگی۔

احبار کی کتاب کے تعارف میں ، میں نے ایک خاص بات نہیں بیان کی  ۔ جب ہم احبار 1 کے پہلے حرف "وا-یکرا،  וַיִּקְרָא ,Vayikra, کو توریت کے طومار میں دیکھیں تو اس میں اس کا آخری حرف  "א” الیف   عام لکھائی سے  چھوٹا لکھا گیا ہوا ہے۔  شاید آپ  نے میرے کسی آرٹیکل میں پڑھا ہو  کہ میں نے بتایا تھا کہ عبرانی حرف "الیف” خدا   کو بھی  ظاہر کرتا ہے۔  میں یہودی دانشوروں کی اس  کے بارے میں تعلیم  کو نہیں بیان کرونگی۔ مگر میرے اپنے ذہن میں جو بات آ رہی ہے وہ ضرور بتاتی چلوں۔ "وا-یکرا” کے معنی  ہیں  "اور بلایا” ۔ الیف کا چھوٹا لکھا ہوا ہونا، یشوعا کے الفاظ مجھے یاد آ رہے ہیں ، یشوعا نے کہا "میں  حلیم ہوں اور  دل کا فروتن۔۔۔۔(متی 11:29)۔ ایلیاہ نبی کے ساتھ خداوند کی ملاقات  میں ایلیاہ نبی نے خداوند کی  ہلکی آواز کو سنا (1 سلاطین 19:12):

اور زلزلہ کے بعد آگ آئی پر خداوند آگ میں بھی نہیں تھاور آگ کے بعد ایک دبی ہوئی ہلکی آواز آئی۔ احبار 1 باب پڑھنا جاری رکھیں

احبار کا مطالعہ؛ تعارف

اس سے پہلے کہ ہم احبار کی کتاب کا مطالعہ شروع کریں میں اسکا  مختصر تعارف کرواتی چلوں۔ احبار کو عبرانی میں وا-یکرا،  וַיִּקְרָא ,Vayikra, کہتے ہیں جسکےلفظی معنی ہیں "اور  بلایا”۔ توریت کی باقی کتابوں کی طرح اس کتاب کا نام بھی اس کتاب کے پہلے عبرانی حرف پر ہے۔  ربیوں کی تعلیم کے مطابق احبار کی کتاب خروج 40:34 سے 35 کی آیات کے بعد کا احوال ہے۔ خداوند نے مشکان یعنی خیمہ اجتماع میں موسیٰ نبی کو بلا کراپنے احکامات دیئے۔

 اگر میرے سے اس کتاب کے بارے میں  پوچھیں گے تو میں کہونگی کہ احبار کی کتاب کلام مقدس کی  وہ کتاب ہے جو ہمیں پاک ہونا سیکھاتی ہے جیسا کہ ہمیں نئے عہد نامے میں لکھا ملتا ہے (1 پطرس 1:16):

کیونکہ لکھا ہے کہ پاک ہو اسلئے کہ میں پاک ہوں۔ احبار کا مطالعہ؛ تعارف پڑھنا جاری رکھیں

خروج 40 باب

آپ کلامِ مقدس سے خروج  40 باب مکمل خود پڑھیں۔ میں صرف وہی آیات لکھونگی جسکی ضرورت سمجھونگی۔

ہم ابھی تک بہت ہی مختصر مطالعہ کرتے آئے ہیں۔ ہمارے آج کے مطالعے کے ساتھ ہی  خروج  کی کتاب مکمل ہوجائے گی۔ اس باب کے مطالعے  میں بھی صرف وہی بات کرونگی جس کی  فی الحال کے لئے ضرورت سمجھونگی۔ امید ہے کہ مختصر سا مطالعہ آپ کے لئے فائدہ مند ہوگا۔ہم نے پچھلے باب کے آخر میں پڑھا تھا کہ کہ بنی اسرائیل نے سب کچھ خداوند کے حکم کے مطابق مکمل کیا اور موسیٰ نبی نے انکو برکت دی۔ اب ہم پڑھتے ہیں کہ خداوند نے موسیٰ نبی کو کہا کہ وہ پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو خیمہ اجتماع کے مسکن کو کھڑا کریں۔  خروج 40 باب پڑھنا جاری رکھیں

خروج 39 باب (دوسرا حصہ)

اب ہم  افسیوں 6 باب میں درج باقی ہتھیاروں کی بات کرتے ہیں۔

سچائی کے پٹکے کے بعد ہم راستبازی کے بکتر کا پڑھتے ہیں جو کہ  سردار کاہن کے سینہ پر ایک پیس پر مشتمل نہیں تھا۔ بکتر سینے میں خاص جسمانی اعضا کی حفاظت کے لئے تھی جیسے کہ دل۔ امثال 4:23 میں لکھا ہے؛

اپنے دل کی خوب حفاظت کرکیونکہ زندگی کا سرچشمہ وہی ہے۔

خروج 28:29 میں خداوند نے حکم دیا  کہ ہارون عدل کا سینہ بند اپنے سینہ پر لگائے پاک مقام پر داخل ہو تاکہ ہمیشہ اسرائیل کے بیٹوں کے نام کی یادگاری ہو۔ خداوند نے مجھے اور آپ کو اپنی قوم اسرائیل کا حصہ بنایا ہے توراہ کی حفاظت اور اس پر عمل کرنا ہمارا بھی فرض ہے۔  میں ابھی اسکی اور باتوں کی تفصیل میں نہیں جاؤنگی۔ اس سے آگے ہم  صلح کی خوشخبری کی تیاری کے جوتے پہننے کا پڑھتے ہیں۔ ہم پہلے پڑھ چکے ہیں کہ کاہن تو ہیکل میں ننگے پاؤں خدمت سر انجام دیتے تھے مگر خدمت کو انجام دینے سے پہلے انھیں اپنے ہاتھ پاؤں پانی سے دھونے تھے تاکہ  وہ مر نہ جائیں (خروج 30:21)۔ یسعیاہ 52:7 کی آیت میں خروج 28 باب کے مطالعے میں لکھ چکی ہوں۔ کوئی بھی  جو کہ خداوند کی خوشخبری کے کلام کو پھیلانا چاہتا ہے روحانی طور پر مردہ نہیں ہو سکتا۔ اگر توراہ زندگی کا درخت ہے تو ہم میں یہ زندگی ضرور نظر آنی چاہیے۔ کاہنوں کا لباس عزت اور  زینت کے واسطے تھا۔ ہمیں بھی اس عزت اور زینت کو قائم رکھنا ہے۔ خروج 39 باب (دوسرا حصہ) پڑھنا جاری رکھیں

خروج 39 باب (پہلا حصہ)

آپ کلامِ مقدس سے خروج 39 باب مکمل خود پڑھیں۔ میں صرف وہی آیات لکھونگی جسکی ضرورت سمجھونگی۔

ویسے تو ہم نے خروج 28 باب میں بھی مختصراً    خروج 39 باب کے بارے میں دیکھ لیا تھا۔ میں نے  کہیں بیان کیا تھا کہ کیسے ہمیں کلام مقدس میں   بعض جگہوں پر ایک خاص پیٹرن  نظر آتا ہے۔ سادہ لفظوں میں اگر بات کروں تو ہمیں آیات کچھ ایسی صورت میں نظر آئیں گی۔ 1، 2، 3، 4، 3، 2، 1 ۔ یعنی ایک بات کو ایک خاص صورت میں دھرایا گیا ہے۔ میں نے بتایا تھا کہ خروج کے پچھلے چند ابواب سے اب تک کے تمام ابواب اسی  صفت کو دھرا رہے ہیں۔  خروج 29 باب میں ہم کاہن کے لباس کو کیسے بنانا ہے اسکا حکم پڑھتے ہیں اور اس باب میں ہم، اس لباس  کو کیسے بنایا گیا اسکا حوالہ پڑھتے ہیں۔  میں نے خروج 29 باب میں بیان کیا تھا کہ پولس رسول نے افسیوں 6 باب میں خداوند کے جن ہتھیاروں کو بیان کیا ہے وہ کسی رومن سپاہی کا لباس نہیں بلکہ کاہن کا لباس ہے۔  کلام مقدس  میں ہمیں لکھا ملتا ہے کہ  خداوند نے اپنے لوگوں کو کاہن پکارا ہے۔ اگر خدا  کل اور آج اور ابد تک یکساں ہے تو ہمیں وہی  یکسانیت  اسکے کلام میں بھی نظر آئے گی۔ میں چاہونگی کہ اگر آپ نے خروج 28 باب کا مطالعہ نہیں پڑھا تو آپ اسے ضرور پڑھیں  اور اگر آپ کو نہیں یاد کہ میں نے کیا لکھا تھا تو  تب بھی اسکو ضرور پڑھیں کیونکہ میں پچھلی باتوں کو نہیں دھراؤنگی ۔ افسیوں 6:13 سے17 آیات میں یوں لکھا ہے؛ خروج 39 باب (پہلا حصہ) پڑھنا جاری رکھیں

خروج 38 باب

آپ کلام مقدس سے خروج کا 38 باب مکمل خود پڑھیں میں وہی آیات لکھونگی جسکی ضرورت سمجھونگی۔

ہم نے پچھلے چند ابواب میں پاک ترین مقام اور پاک مقام کی  چیزوں کے بارے میں پڑھا تھا۔ اس باب میں ہم  باہر کے احاطے کے ظروف کے بنانے کا پڑھتے ہیں۔ پاک ترین اور پاک مقام کی اشیا لکڑی سے تیار کی گئی جن پر سونا  منڈھا گیا اب ہم مذبح کے بنانے کا پڑھتے ہیں جس میں لکڑی پر سونا نہیں بلکہ پیتل منڈھا گیا۔ مذبح کے سب ظروف بھی پیتل سے ہی بنائے گئے۔

 پیتل اسرائیلی عورتوں نے خوشی سے ہدیہ میں دیا تھا۔ پیتل کو اسرائیل عورتیں شیشے کے طور پر استعمال کرتی تھیں۔  خروج 38:8 میں لکھا ہے؛

اور جو خدمت گذارعورتیں خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خدمت کرتی تھیں انکے آئینوں کے پیتل سے اُس  نے پیتل کا حوض اور پیتل ہی کی اسکی کرسی بنائی۔ خروج 38 باب پڑھنا جاری رکھیں

خروج 37 باب

آپ کلام مقدس سے خروج 37 باب مکمل خود پڑھیں۔

ہم نے پچھلے باب میں پڑھا تھا کہ پہلے بنی اسرائیل نے خیمہ اجتماع  کے  پردوں  اور تختوں  پر کام کیا۔ انھوں نے ستون کھڑے کئے اور پردوں کو جوڑا۔ اس باب میں ہم پاک ترین مقام اور پاک مقام کے ظروف کے  بنانے کا پڑھتے ہیں سب سے پہلے بضلی ایل نے عہد کے صندوق کو بنانا شروع کیا۔ خیمہ اجتماع اور پھر ہیکل میں عہد کا صندوق  ، خداوند کی موجودگی کو ظاہر کرنے کے لئے تھا۔ بہت سے اس بات پر بحث کرنا پسند کرتے ہیں خاص طور پر کہ عہد کا صندوق، اس پر بنائے گئے کروبی بھی تو  بت پرستی کی علامت ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں۔ عہد کا صندوق، توریت کو  اور پھر بعد میں "من” کو رکھنے کے لئے  تھا۔ تبھی اسکو شہادت کا صندوق اور عہد نامہ کا صندوق بھی کہا گیا ہے ۔خروج 25:16 میں ہم پڑھتے ہیں؛

اور تو اس شہادت نامہ کو جو میں تجھے دونگا اسی صندوق میں رکھنا۔ خروج 37 باب پڑھنا جاری رکھیں

خروج 36 باب

آپ کلام میں سے خروج 36باب مکمل خود پڑھیں۔ میں صرف وہی آیات درج کرونگی جس کی ضرورت سمجھوں گی۔

ہم نے پچھلے باب میں پڑھا تھا کہ  خداوند نے ایک بار پھر سے بنی اسرائیل سے کہا کہ وہ مشکان (مسکن) کی تعمیر کے لئے چیزیں  ہدیہ کے طور پر لائیں۔ خداوند جس نے ساری کائنات کو  بغیر انسان کی مدد کے بنایا، مشکان کی تعمیر کے لئے  ان روشن ضمیروں کو کام کے لئے پکار رہے ہیں جنکے دل  میں اُبھرا کا جا کر کام کریں۔ ہدیے بھی انھی کے قبول کئے گئے جو اپنی خوشی سے لائے۔   لوگ اتنا  زیادہ لے آئے کہ موسیٰ نبی نے انھیں کہا اب وہ ہدیہ کی غرض سے اور کچھ نہ لائیں۔ انکے پاس ضرورت سے زیادہ تھا انھیں اور ہدیوں کی ضرورت نہیں تھی۔ بنی اسرائیل نے یک دل ہو کر مشکان کی تعمیرکا کام کیا۔ خداوند اپنے لئے ایسے ہی لوگوں کو دیکھ جن کے دل اس بات کے لئے تیار ہوں کہ وہ خداوند کے گھر کی تعمیر میں حصہ لیں۔ جن کے دل خوشی خوشی سے ہدیہ دینے کو  تیار ہوں۔ پراجیکٹ کوئی بھی ہو اگر یک دل ہو کر کام نہ  ہو تو پراجیکٹ ٹھپ ہو جائے گا۔ جہاں بنی انسان یک دل ہوجائیں  انکے لئے کچھ بھی ناممکن نہیں رہتا بلکہ وہ جو بھی کرتے ہیں کا میاب ہوتے ہیں۔ خروج 36 باب پڑھنا جاری رکھیں

خروج 35 باب

آپ کلام مقدس سے خروج 35 باب مکمل خود پڑھیں۔

خروج 35 باب میں بھی بہت سی باتیں ایسی درج ہیں جو کہ ہم نے پہلے بھی پڑھی ہیں۔  کلام مقدس میں جب بھی حکموں کو دھرایا گیا ہے تو وہ یہی بات دکھانے  کے لئے ہے کہ ان باتوں کی ان حکموں کی اہمیت بہت زیادہ ہے اس لئے ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔  سبت کے حکم کا ہم بار بار پڑھتے  آ رہے ہیں ۔ مگر اس باب میں سبت کے بارے میں  حکم جس طرح سے دیا گیا ہے وہ  انتہائی سخت لگتا ہے۔ ہم نے خروج 31 باب میں بھی پڑھا تھا کہ سبت کی جو بھی بے حرمتی کرے وہ مار ڈالا جائے اور جو اس میں کچھ کام کرے وہ اپنی قوم میں سے کاٹ ڈالا جائے/مار ڈالا جائے۔ جب سے خداوند نے دس احکامات دیئے ہیں ہم بار بار سبت کے بارے میں پڑھتے آ رہے ہیں۔  خروج 35 باب میں خداوند نے سبت کے دن اپنے گھروں میں آگ جلانے سے بھی منع کیا ہے۔ خروج 35 باب پڑھنا جاری رکھیں

خروج 34 باب (دوسرا حصہ)

ہم نے پچھلے حصے میں خروج 34 باب کی پہلی سات آیات پر بات کی تھی۔  اب ہم اس کا آگے مطالعہ کرتے ہیں۔

خداوند نے پہلے ہی موسیٰ نبی کو کہہ دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کے بیچ میں ہو کر نہیں چلیں گے مگر پھر بھی موسیٰ نبی نے خداوند کے حضور جھک کرخداوند سے منت کی کہ اگر خداوند  کے کرم کی نظر موسیٰ نبی پر ہے تو وہ انکے بیچ میں ہو کر چلیں گو کہ بنی اسرائیل گردن کش قوم ہے مگر خداوند انکے گناہوں اور خطاؤں کو بخش کر  انکو اپنی میراث کر لے۔

خداوند نے ایک بار پھر سے عہد باندھا کہ وہ   بنی اسرائیل کے سامنے ایسی کرامات کریں گے جو دنیا بھر میں اور کسی قوم میں کبھی کی نہیں گئیں۔ خداوند نے اپنا عہد بنی اسرائیل کے ساتھ باندھا کہ وہ ان  چھ قوموں، اموریوں، کنعانیوں، حتیوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں  کو اس ملک سے نکالیں گے  جو خداوند بنی اسرائیل کو دے رہے ہیں مگر انھیں  اس ملک کے باشندوں کے ساتھ کوئی عہد نہیں باندھنا بلکہ انکی قربانگاہوں کو ڈھا دینا ہے او ر انکے ستونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہیں اور انکی یسیرتوں کو کاٹ ڈالنا ہے۔ اور انھیں کسی بھی دوسرے معبود کی پرستش نہیں کرنی ہوگی۔ خروج 34 باب (دوسرا حصہ) پڑھنا جاری رکھیں