(پیدائش 38 باب (پہلا حصہ

image_pdfimage_print

آپ کلام میں سے  پیدائش کا 38 باب پورا خود پڑھیں، میں صرف وہی آیات لکھوں گی جس کی ضرورت سمجھوں گی۔

پیدائش کے پچھلے مطالعہ میں ہم نے پڑھا تھا کہ یوسف کو اسکے بھائیوں نے اسمعیلیوں/مدیانیوں کے ہاتھ میں بیچ ڈالا تھا  اور انھوں نے آگے مصر میں یوسف کو فوطیفار کے ہاتھ بیچ  دیا۔  اس باب میں ہم یہوداہ کے بارے میں پڑھیں گے۔  اگر آپ نے میرا آرٹیکل "مسیحا بن یوسف اور مسیحا بن داود” نہیں پڑھا تو آپ ان  مطالعوں کی گہرائی تک نہیں پہنچ پائیں گے۔  یاد رکھیں کہ یشوعا ، کلام ہے جو مجسم ہوا۔

ہم نے پچھلے مطالعے میں مسیحا بن یوسف  (یشوعا اور یوسف) کی چند باتوں پر غور کیا تھا کہ ویسے ہی جیسے کہ یوسف کو اسکے بھائیوں نے حسد کی بنا پر غیروں میں  (غلامی ) بیچ ڈالا ویسے ہی یشوعا کو اسکے بھائیوں (یہودیوں) نے بھی رومن سپاہیوں کے حوالے کر دیا تھا۔ یوسف کو اسکے بھائیوں نے  بیس  سکوں میں بیچ دیا اور یشوعا کو 30 سکوں میں جو کہ اسکے زمانے میں اتنی  ہی رقم بنتی تھی جتنے میں یوسف کے بھائیوں نے  اسے بیچا تھا۔  یوسف کو بیچنے کا مشورہ دینے والا یہوداہ  تھا اور یشوعا کو بھی پکڑوانے والے کا نام بھی یہوداہ ہی تھا۔  یشوعا کو پکڑوانے والا یہوداہ اسکے بعد آرام سے جی نہیں پایا اور اس نے خودکشی کر لی مگر یوسف کا بھائی یہوداہ جو کہ  لیاہ سے پیدا ہوا تھا   اس کے کردار کو خدا نے بدلنا تھا اور یہی ہم اس باب میں اور آگے چند باب میں دیکھیں گے کہ وہ کتنا بدل گیا تھا۔

روبن جو کہ اصل میں یعقوب کا پہلوٹھا تھا اس نے راخل کی موت کے بعد  اپنے باپ کی حرم بلہاہ سے  مباشرت کی تھی شاید اسلئے کہ وہ نہیں چاہتا تھا بلہاہ، راخل کی جگہ لے وہ  اپنی ماں "لیاہ” کی اچھائی چاہتا ہوگا مگر اسکو  اپنے پہلوٹھے کا حق کھونا پڑا۔ شمعون اور لاوی نے قتل و غارت سے اپنے پہلوٹھے ہونے کا حق کھو دیا اور یوسف جسکو  یعقوب پہلوٹھے کا حق دینا چاہتا تھا اسکے نہ ہونے پر یہ حق یہوداہ کو ملنا تھا۔  یہوداہ اپنے بھائیوں سے جدا ہوا۔  یہودی عالم رشی کے کہنے کے مطابق یہوداہ اپنے بھائیوں سے اسلئے جدا ہوا کہ یوسف کو بیچنے کے بعد شاید ان میں تنازع ہوا ہو۔ وجہ کوئی بھی یہوداہ اپنے بھائیوں سے جدا ہوا اور جدا ہو کر اس نے  سوع نام کسی کنعانی کی بیٹی سے شادی کی۔ اگر وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہی رہ رہا ہوتا تو شاید وہ یہ قدم نہ اٹھاتا۔    یہوداہ کے اس عورت سے تین بیٹے ہوئے، عیر، اونان اور سیلہ۔

یہوداہ اپنے بیٹے عیر کے لئے ایک عورت جسکا نام تمر تھا اسکو بیاہ لایا۔ یہوداہ کی اپنی بیوی کا نام تو کلام میں درج نہیں سوائے اسکے کہ وہ سوع کی بیٹی تھی مگر تمر کا نام درج ہے کیونکہ آگے چل  کر یہی  تمر، مسیحا کے  نسب نامے کا حصہ بن  جائے گی۔ یہوداہ کے اپنے بیٹے جو کہ اسکے سوع کی بیٹی سے ہوئے وہ بھی نسب نامے کا حصہ نہیں بن پائے کیونکہ  وہ یہوداہ کی اولاد تو تھے مگر خدا کے چنے لوگوں میں سے نہیں تھے۔  وہ یشوعا کے نسب نامے کا حصہ ہرگز نہ تھے (متی 1)۔  تمر کے نام کا مطلب ہے "کھجور کا درخت” جو کہ ایک عاجز انسان کا کردار  ظاہر کرتا ہے۔ یہوداہ نے خود تو اپنی مرضی سے شادی کی  تھی مگر بیٹے کے لیے اس نے خود عورت چنی۔

عیر خدا کی نظر میں شریر تھا سو خداوند نے اسے ہلاک کر دیا۔ تمر اور عیر کتنے عرصے تک اکٹھے تھے ہمیں اسکا علم نہیں  مگر اس بات کا علم ضرور ہے کہ انکی اولاد ہونے سے پہلے ہی عیر ہلاک ہوگیا تھا۔ تبھی یہوداہ نے اپنے بیٹے اونان سے کہا کہ وہ تمر سے اولاد پیدا کرے تاکہ اسکے بھائی کے نام سے نسل برقرار رہے۔ موسیٰ کی شریعت میں آپ کو استثنا 25:5 سے 10 آیات میں اس کی تفصیل ملے گی۔

اگر کئی بھائی مل کر رہتے ہوں اور ایک ان میں سے بے اولاد مر جائے تو اس مرحوم کی بیوی کسی اجنبی سے بیاہ نہ کرےبلکہ اسکے شوہر کا بھائی اسکے پاس جا کر اسے اپنی بیوی بنا لے اور شوہر کے بھائی کا جو حق ہے وہ اسکے ساتھ ادا کرے۔ اور اس عورت کے جو پہلا بچہ ہو وہ اس آدمی کے مرحوم بھائی کے نام کا کہلائے تاکہ اسکا نام اسرائیل میں سے مٹ نہ جائے۔ اور اگر وہ آدمی اپنی بھاوج سے بیاہ نہ کرنا چاہے تو اسکی بھاوج پھاٹک پر بزرگوں کے پاس جائے اور کہے میرا دیور اسرائیل میں اپنے بھائی کا نام بحال رکھنے سے انکار کرتا ہےاور میرے ساتھ دیور کا حق ادا نہیں کرنا چاہتا۔ تب اسکے شہر کے بزرگ اس آدمی کو بلوا کر اسے سمجھائیں اور اگر وہ اپنی بات پر قائم رہے اور کہے مجھ کو اس سے بیاہ کرنا منظور نہیں۔ تو اسکی بھاوج بزرگوں کے سامنے اسکے پاس جاکر اسکے پاؤں سے جوتی اتارے اور اسکے منہ پر تھوک دے اور یہ کہے جو آدمی اپنے بھائی کا گھر آباد نہ کرے اس سے ایسا ہی کیا جائیگا۔ تب اسرائیلیوں میں اسکا نام یہ پڑجائیگا کہ یہ اس شخص کا گھر ہے جسکی جوتی اتاری گئی تھی۔

 اس قانون کو عبرانی میں "لیوریت،Levirate  ” کہتے ہیں۔ کہنے کو تو موسیٰ کی شریعت ، یہوادہ کے دور میں تو نہیں تھی مگر  ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ اس قسم کے قوانین سے موسیٰ کی شریعت سے پہلے بھی لوگ واقف تھے۔  یہوداہ کی اپنے بیٹے اونان کو کہی  یہ باتیں ظاہر کر رہی ہیں کہ یہوداہ خدا کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اونان  نے اپنے باپ کو تو انکار نہیں کیا مگر وہ تمر سے اپنے بھائی کے لئے اولاد نہیں کرنا چاہتا تھا اسلئے وہ جب تمر کے پاس جاتا تو نطفہ زمین پر گرا دیتا۔اسکا یہ کام خدا کی نظر میں بہت بُرا تھا اسلئے خدا نے اسکو بھی ہلاک کر دیا۔ اونان کی موت کے بعد یہوداہ نے تمر سے کہا کہ وہ اپنے باپ کے گھر اس وقت کا انتظار کرے جب تک کہ اسکا سب سے چھوٹا بیٹا سیلہ بالغ نہیں ہوجاتا۔ یہوداہ کو ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سیلہ بھی اپنے بھائیوں کی طرح ہلاک ہوجائے۔  صاف ظاہر ہے کہ اسے لگتا تھا کہ شاید تمر منحوس ہے جس کی بنا پر اسکے دو بیٹے ہلاک ہوگئے۔

یہوداہ کی طرح اکثر ہم   بھی اپنی خرابیوں کو نظر انداز کرکے  دوسروں کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ یشوعا نے متی 7:3 میں کہا؛

تو کیوں اپنے بھائی کی آنکھ کے تنکے کو دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کے شہتیر پر غور نہیں کرتا؟

یشوعا نے کہا کہ اپنی بھائی کی آنکھ کا تنکا نکالنے سے پہلے اپنی آنکھ کا شہتیر نکال  پھر تو اپنی بھائی کی آنکھ میں سے تنکے کو اچھی طرح دیکھ کر نکال سکے گا۔  یہوداہ کو اپنے بیٹوں میں کوئی برائی نظر نہیں آئی مگر خدا کو انکی روحانی کیفیت کا اندازہ تھا۔  ایک اور جو روحانی پیغام مجھے اس کہانی میں اپنے لئے نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ یہوداہ شاید اپنی طرف سے کوشش کر رہا تھا کہ اب خدا کے حکموں کے مطابق اپنی  زندگی بسر کرے۔ وہ اچھا کرنا چاہتا تھا مگر شیطان اسکے دل میں خوف پیدا کر رہا تھا کہ اس سے شاید اسکا چھوٹا بیٹا بھی چھن جائے۔ شیطان اسکے دل میں تمر کے لئے وہم پیدا کر رہا تھا تاکہ اس نے جس روحانی اندگی کا آغاز کیا ہے اسکا جلد ہی خاتمہ ہو جائے۔ جب ہم اپنی روحانی زندگی کی ابتدا کرتے ہیں تو شیطان اسی قسم کے شک و شبے ہمارے دلوں میں بھی پیدا کرتا ہے تاکہ ہم خدا کے حکموں کو چھوڑ کر پھر سے گناہ آلود زندگی میں واپس آجائیں۔  مگر پولس کی طرح آپ بھی کہہ سکتے ہیں   "یشوعا،  جو مجھے طاقت بخشتا ہے اس میں میں سب کچھ کر سکتا ہوں (فلپیوں 4:13)۔

پیدائش 38 باب کا باقی مطالعہ ہم اگلی دفعہ کریں گے۔ میری آپ کے لیے دعا ہے کہ جب جب آپ کے دل میں شیطان، خدا کے حکموں پر عمل کرنے سے دل میں شک و شبہ پیدا کرے ، یشوعا مسیح آپ کا اور میرا نجات دہندہ آپ کو یاد دلائے کہ آپ اس طاقت کے وسیلے سے جو وہ آپ کو دیتا ہے سب کچھ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں، یشوعا کے نام میں آمین۔