(پیدائش 31 باب (دوسرا حصہ

image_pdfimage_print

پچھلے حصہ میں ہم نے پڑھا تھا کہ یعقوب اور اسکی بیویاں خدا کے کہنے کے مطابق کنعان کو جانے کے لئے راضی ہوئے تھے۔ جب لابن اپنی بھیڑوں کی پشم کترنے گیا ہوا تھا ، یعقوب نے اپنی بیویوں اور بچوں کو اونٹوں پر بٹھایا اور اپنے تمام مال اور جانوروں کے ہمراہ ملک کنعان کو اپنے باپ اضحاق کے پاس جانے کے لئے چلا۔ راخل نے اپنے باپ کو بتوں کو چرایا اور اپنے ساتھ سفر پر لے گئی۔یعقوب نے لابن سے چھپ کر یہ قدم اٹھایا تھا تاکہ لابن اسکو نہ روکے۔ وہ لابن سے بھاگ رہا تھا۔ یعقوب نے دریا پار کر کے اپنا رخ کوہ جلعاد کی طرف کیا۔ آپ کے خیال میں کیا یعقوب نے لابن سے چھپ کر بھاگنے کا جو قدم اٹھایا تھا ، صحیح تھا یا غلط؟


لابن سے چھپ کر بھاگ نکلنے کی تو بات سمجھ میں آسانی سے آتی ہے مگر راخل نے کیوں اپنے باپ کے بتوں کو چرایا؟ ہم نے پچھلے باب میں پڑھا تھا کہ لابن کو جادو منتر سے پتہ چلا تھا کہ یعقوب کی بنا پر خدا نے اسکو برکت دی ہے۔ لہذا ایک وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ راخل نے اپنے باپ کے بتوں کو چرا یا تھا تاکہ وہ نہ جان پائے کہ اب وہ کدھر ہیں۔ مگر وہ انھیں چرا کر کہیں اور بھی تو پھینک سکتی تھی یا پھر تباہ کر سکتی تھی؟ ساتھ کیوں رکھا؟ مسوپتامیہ کی ایک رسم یہ بھی تھی کہ گھرانے کے جس شخص کے پاس معبود ہوتے تھے اسی کا، گھرانے کی دولت اور گھرانے کے باقی لوگوں پرایک قسم کا اختیار بھی ہوتا تھا۔ شاید راخل نے اسی بنا پر بتوں کو چرا کر اپنے ساتھ لے جانا پسند کیا تھا اور شاید وہ اس بات سے ڈرتی تھی کہ کہیں ان بتوں کو تباہ کر کے اسکے اپنے اوپر کوئی مصیبت نہ آئے۔ راخل کو ابھی تک خدائے قادر مطلق "یہوواہ ” کا صحیح پتہ نہیں تھا۔

آپ کا اپنا کتنا بھروسہ ہے خدائے قادر مطلق پر؟ کیا آپ ابھی بھی ستاروں کے علم کے بھروسہ پر یہ جانناچاہتے ہیں کہ "آپ کا یہ دن یا پھر ہفتہ کیسا گذرے گا؟” یا پھر کسی نجومی کو ہاتھ دکھا کراپنے مستقبل کاپوچھنا چاہتے ہیں؟ خدا نے اس قسم کے ہر کام کرنے والے پر اپنی لعنت بھیجی ہوئی ہے۔ تعویذ، جادو ٹونے ہر قسم کا کام خدا کی نظر میں مکروہ ہے۔ وہ خدائے قادر مطلق ہے جسکی بھی تقدیر بدلنا چاہے بدل سکتا ہے۔ اس پر بھروسہ کرنا سیکھیں اور صرف اور صرف اسی سے اپنے مستقبل کی رہنمائی مانگیں جو کہ کلام میں لکھی ہوئی ہے۔

جب لابن کو خبر ہوئی کہ یعقوب بھاگ گیا ہے تو اس نے اپنے بھائیوں کو اپنے ہمراہ لے کر اسکا پیچھا کیا، آخر اسکو علم تو تھا ہی کہ یعقوب بھاگ کر اپنے باپ کے گھر کی طرف روانہ ہوگا۔ لابن نے اسکو جلعاد کے پہاڑ میں پکڑا۔ مگر خدا نے رات کو لابن کے خواب میں پہلےہی تنبیع کر دی تھی کہ "خبردار تو یعقوب کو برا یا بھلا کچھ نہ کہنا۔”
اگر آپ کسی ایسی مصیبت میں ہیں جہاں آپ جن لوگوں سے پیچھا چھڑا کر بھاگ رہے ہیں تو بھروسہ رکھیں کہ آپ کا خداوند انکو بھی آپ کی خاطر تنبیع کرتا ہے کہ آپ کو بُرا یا بھلا کچھ بھی نہ کہیں۔ کیونکہ وہ آپ کے ساتھ ہے یہ میں نہیں بلکہ خدا کا کلام کہتا ہے ۔ آپ اس سچائی کو رومیوں 8:31 میں دیکھ سکتے ہیں جس میں لکھا ہے؛

پس ان باتوں کی بابت ہم کیا کہیں؟ اگر خدا ہماری طرف ہے تو کون ہماری مخالف ہے؟

اور یرمیاہ 1:19میں لکھا ہے؛

اور وہ تجھ سے لڑینگے لیکن تجھ پر غالب نہ آئینگے کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں تجھے چھڑانے کو تیرے ساتھ ہوں۔

اسلیے آپ پوری بہادری سے ایسا کہہ سکتے ہیں جیسا کہ زبور 118:6میں لکھا ہے؛

خداوندمیری طرف ہے میں نہیں ڈرنے کا۔ انسان میرا کیا کر سکتا ہے؟

زبور 56:11 ؛

میرا توکل خدا پر ہے۔ میں ڈرنے کا نہیں۔ انسان میرا کیا کرسکتا ہے؟

لابن نے یعقوب سے پوچھا پیدائش 31:26 اور 27؛

تب لابن نے یعقوب سے کہا کہ تو نے یہ کیا کیاکہ میرے پاس چوری سے چلا آیا اور میری بیٹیوں کو بھی اس طرح لے آیا گویا وہ تلوار سے اسیر کی گئی ہیں؟ تو چھپ کر کیوں بھاگا اور میرے پاس سے چوری سے کیوں چلا آیا اور مجھے کچھ کہا بھی نہیں ورنہ میں تجھے خوشی خوشی طبلے اور بربط کے ساتھ گاتے بجاتے روانہ کرتا؟

ساتھ ہی میں لابن نے اسکو یہ بھی کہا کہ وہ اس قابل ہے کہ یعقوب کو اس بات کی تکلیف پہنچا سکے مگر "یعقوب کے باپ کے خدا” نے چونکہ کہا کہ خبردار تو یعقوب کو بُرا یا بھلا کچھ نہ کہنا اسلئے وہ ایسا نہیں کر پایا۔ لابن نے خدا کی بات سنی۔ اگر ضرورت پڑے تو خدا آپ کی خاطر ان سے بھی بات کرتا ہے جو اسکو نہیں مانتے۔ پھر لابن نے کہا خیر جو ہوا سو ہوا مگر تو میرے بتوں کو کیوں چرا لایا؟ لابن کا ارادہ شاید یعقوب سے بُری طرح سے پیش آنے کا ہی تھا مگر چونکہ اسکو خدا نے پہلے ہی وارننگ دے دی تھی اسلئے اس نے ایسا نہیں کیا مگر وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ یعقوب نے کیوں اسکے بت چرائے ہیں؟ وہ اپنے بت واپس لینا چاہتا تھا۔ آپ کو بھی شاید لابن کی باتوں میں کچھ تیز طراری نظر آتی ہو جب اس نے کہا کہ میری بیٹیوں کو ایسے لے آیا جیسے وہ تلوار سے اسیر کی گئی ہوں۔ کیا اسکو اس بات کا ذرا سا بھی علم تھا کہ اسکی اپنی بیٹیوں کو بھی اس سے شکوہ ہو سکتا تھا۔ کیا وہ واقعی میں یعقوب کو اسکے گھرانے کے ہمراہ خوشی خوشی روانہ کرنا چاہتا تھا؟
یعقوب نے اس سے صاف صاف کہا کہ وہ اس سے ڈر رہا تھا کہ کہیں وہ یعقوب سے اسکی بیویاں نہ چھین لے۔ فدان ارام کے ہمرآبی قوانین کے مطابق جو کوئی بھی بت چراتا تھا اسکی سزا موت ہوتی تھی۔ یعقوب کو شاید غصہ چڑھا تھا کہ لابن نے اس پر بتوں کو چرانے کا الزام لگایا ہے اور چونکہ اسکو پتہ تھا کہ اس نے ایسی حرکت نہیں کی اس لئے اس نے کہا؛ (پیدائش 31:32)

اب جسکے پاس تجھے تیرے بت ملیں وہ جیتا نہیں بچیگا۔ تیرا جو کچھ میرے پاس نکلے اس اِن بھائیوں کے آگے پہچان کرلیلے کیونکہ یعقوب کو معلوم نہ تھا کہ راخل ان بتوں کو چرا لائی ہے۔

یعقوب کو پورا بھروسہ تھا کہ انکے خیمہ میں سے کسی کے پاس لابن کے بت نہیں مگر یعقوب نے انجانے میں اپنی پیاری بیوی راخل پر موت کی لعنت بھیج دی۔ کیونکہ وہ اپنے گھرانے کا سربراہ تھا اسکی اپنے گھرانے پر برکت اور لعنت دونوں ہی اہمیت رکھتی تھیں ۔ میں نے کسی اور پیدائش کے مطالعے میں ذکر کیا تھا کہ زبان کا غلط استعمال ہمارے اپنے لیے لعنت کا باعث بن جاتا ہے۔ آپ کو اسرائیلیوں کے بیابان میں سفر کے دوران انکا اپنی زبان کے غلط استعمال کا حوالہ ملے گا۔ آپ کلام میں خروج 14، 15، 16 اور 17 باب، گنتی 11، 14 ، 16 اور 17 باب پڑھ سکتے ہیں جس میں ذکر ہے کہ کیسے اسرائیلی بار بار موسٰی سے اور خدا سے یہ کہتے تھے کہ "کیا تو ہمیں یہاں مارنے کو لایا ہے؟ ہم یہیں مر جائیں گے اس سے اچھے تو ہم ملک مصر میں تھے۔۔۔”خدا انکے لیے کچھ اچھا کرنے لگا تھا مگر وہ اپنی زبان سے بار بار بُرا بولتے آئے اور پھر خدا نے انکی باتوں سے تنگ آکر کہا؛ (گنتی 14:28 سے 30 )

سو تم ان سے کہدو خداوند کہتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم ہے کہ جیسا تم نے میرے سنتے کہا ہےمیں تم سے ضرور ویسا ہی کرونگا۔ تمہاری لاشیں اسی بیابان میں پڑی رہینگی اور تمہاری ساری تعداد میں سے یعنی بیس برس سے لیکر اس سے اوپر اوپر کی عمر کے تم سب جتنے گنے گئے اور مجھ پر شکایت کرتے رہے۔ ان میں سے کوئی اس ملک میں جسکی بابت میں نے قسم کھائی تھی کہ تمکو وہاں بساؤنگاجانے نہ پائیگا سوا یفنہ کے بیٹے کالب اور نون کے بیٹے یشوع کے۔

آپ کو میرے آرٹیکلز میں اکثر اس بات پر زور نظر آئیگا کہ ہمیں زبان کا صحیح استعمال کرنا سیکھنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اسرائیلیوں کی طرح اپنے اوپر خود لعنت نہیں لائیں گے کہ خدا آپ کو بار بار ایک ہی بات کہتے سن کر تنگ آجائے یہاں تک کہ وہ آپ کو آپ کی زبان کے مطابق پھل کھلا دے چاہے اسکا آپ کے ساتھ خوشحالی کا وعدہ ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اپنا وعدہ آپ کی نسل کے ساتھ قائم رکھے گا مگر آپ کو اسکا مزا چکھنے نہیں دے گا۔
ہم پیدائش کے اس مطالعے کو اگلی دفعہ جاری رکھیں گے اور یہ بھی پڑھیں گے کہ کیسے راخل کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا اور وہ لمبا عرصہ نہیں جی پائی۔ میری خداوند سے دعا ہے کہ اگر آپ نے انجانے میں اپنے اوپر یا پھر اپنے خاندان کے لئے اگر کسی قسم کی لعنت بھرےالفاظ استعمال کئے ہیں تو خداوند خدا آپ کو اس آرٹیکل سے یہ سبق سیکھنے کا موقع دے کہ آئندہ آپ اس قسم کے الفاظ نہ استعمال کریں۔ اور وہ آپ کی زندگی سے ان گزشتہ تکلیف دہ لعنت بھرے الفاظوں کے اثر کو یشوعا کے نام میں ہمیشہ کے لئے مٹا دے کیونکہ یشوعا نے اسی لئے قربانی دی کہ ہم زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔خداوند یہوواہ آپ کے اوپر کی لعنتوں کو برکتوں میں تبدیل کردے۔ آمین