خروج 20 باب (تیسرا حصہ)

image_pdfimage_print

آج ہم  عسیریت ہادیواریم یعنی دس احکامات میں سے دوسرے حکم پر بات کریں گے۔ میں نے پچھلے حصے میں جس کتاب "روزمرہ کی دعائیں” کا ذکر کیا تھا اسکے مطابق دوسرا حکم یہ ہے؛

خداوند کا نام بے فائدہ نہ لینا۔

مگر کلام کے مطابق دوسرا حکم یہ بنتا ہے (خروج 20:3 سے6)؛

میرے حضور غیر معبودوں کو نہ ماننا۔ تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یانیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔ تو انکے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ انکی عبادت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں انکی اولاد کو تیسری  اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں۔ اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے حکموں کو مانتے  ہیں رحم کرتا ہوں۔

ہم نے پچھلے حصے میں یہ جانا تھا کہ ہمارے اس خدا کا نام کیا تھا جو کہ ہمیں ملکِ مصر سے اور غلامی کے گھر سے نکال لایا تھا۔ اس دوسرے حکم میں خداوند نے  اسکے حضور غیر معبودوں کو ماننے سے منع کیا اور  تراشی ہوئی مورت بنانے سے منع کیا اور اس بات سے بھی منع کیا کہ انکے آگے سجدہ نہ کیا جائے اور نہ ہی انکی عبادت کی جائے۔ شاید آپ کو پہلے حکم اور دوسرے حکم میں  رابطہ نظر آ رہا ہو۔ پہلے حکم میں خداوند نے اپنا تعارف کروایا ہے کہ یہوواہ نے غلامی کے گھر سے نکالا ہے اور اب اس حکم  میں وہ کہہ رہے ہیں کہ  میرے  حضور غیر معبودوں کو نہ ماننا۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ مصریوں کے کئی خدا تھے  اور خداوند نے بنی اسرائیل کو ملکِ مصر سے نکالتے ہوئے ان تمام کو  شکست دی تھی اور اپنا بڑا جلال دکھایا تھا۔  جب تک آ پ اپنے خدا کو ذاتی طور پر نہیں جانیں گے تب تک آپ کو اپنے خدا میں اور غیر معبود میں فرق نہیں نظر آئے گا۔ جہاں پر اردو کلام میں "میرے حضور” لکھا ہے وہاں عبرانی کلام میں لفظ بہ لفظ "میرے چہرے” بنتا ہے۔  خدا ہر جگہ موجود ہے یہ ہم مانتے ہیں۔ ہمیں کسی بھی چیز کی صورت بنانے سے منع کیا گیا ہے جسکے آگے سجدہ کیا جائے یا عبادت کی جائے۔

 اگر پروٹسٹنٹ چرچ ، رومن کیتھولک چرچ کو   مسیح یا مریم کا مجسمہ بنانے پر  برا بھلا کہتے ہیں تو وہ خود بھی یہ بھول جاتے ہیں کہ انھوں نے بھی صلیب  اپنے چرچ میں کھڑی کی ہوئی ہے۔ جسکو زمین پر گرنے نہیں دیا جاتا کہ یہ یسوع کی قربانی کی نشانی ہے۔ میرے ساتھ اس بات پر ضرور غور کریں اور دل میں سوچیں کہ آپ کی اس بارے میں اپنی کیا رائے ہوگی۔ خدا نا خواستہ اگر آپ کے کسی جانی عزیز کی موت چاقو سے یا  کسی ایسے ہتھیار سے ہو  جس سے آپ کے عزیز کی موت گھنٹوں تک تکلیف میں رہنے کے بعد ہوئی ہو تو کیا آپ اس ہتھیار کو فریم کروا کر اپنے گھر میں رکھیں گے کہ یہ مجھے بہت عزیز ہے کیونکہ میرے قریبی عزیز کی موت اس سے ہوئی تھی؟ اور یہ مجھے میرے عزیز کی موت کی یاد دلاتی ہے؟  میں کسی آرٹیکل میں بتا چکی ہوئی ہوں کہ میرے لئے صلیب یا سٹار آف ڈیوڈ صرف   ایک زیور ہے۔  میں مانتی ہوں کہ صلیب کا نشان اہمیت رکھتا ہے مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ میں اسے اتنی عزت دینا شروع کر دوں کہ زمین پر نہ گرنے دوں یا پھر ہر بار دعا کرنے کے بعد صلیب کا نشان بناؤں۔  اگر رومن کیتھولک چرچ مجسمہ بنانے میں غلط ہیں تو باقی وہ تمام چرچ بھی غلط ہیں جو کہ صلیب کو پاک مان کر عبادت میں استعمال کرتے ہیں۔ یوحنا 3:14 میں ہم پڑھتے ہیں کہ یشوعا نے کہا؛

اور جس طرح سے موسیٰ نے سانپ کو بیابان میں اونچے پر چڑھایا اسی طرح ضرور ہے کہ ابن آدم بھی اونچے پر چڑھایا جائے ۔

شاید آپ نے پڑھا ہو  جو میں اکثر کہتی ہوں کہ وہی غلطیاں جو کہ بنی اسرائیل نے کی اب مسیحی کر رہے ہیں۔  گنتی 21 باب میں ہمیں یہ کہانی ملتی ہے کہ کیوں موسیٰ نبی نے سانپ کو اونچے پر چڑھایا۔ ہم سلاطین کی کتاب میں پڑھتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے  جن معبودوں کو بنا کر پوجنا شروع کر دیا تھا انکو حزقیاہ بادشاہ نے چکنا چور کر ڈالا (2 سلاطین 18)۔ انھی میں ہم "پیتل کے سانپ ” کا ذکر بھی پڑھتے ہیں جسکو موسیٰ نے بنایا تھا کیونکہ بنی اسرائیل اسکے آگے بخور جلاتے تھے۔  آپ کے خیال میں اگر حزقیاہ بادشاہ نے پیتل کے اس سانپ کو چکنا چور کیا تھا  تو کیا ہمارا  صلیب کو عبادت میں استعمال کرنا مناسب ہے۔ وہی صلیب جو کہ ابن آدم کے اونچے پر چڑھائے جانے کا نشان ہے؟ وہی صلیب جو کہ یشوعا کے لئے اذیت اور موت کا سبب بنی  کیا آپ کو اس قدر عزیز ہے کہ آپ اپنے ساتھ ساتھ رکھنا پسند کریں؟  میں یہ فیصلہ آپ کے اپنے اوپر چھوڑتی ہوں کہ کیا صلیب ہمارے لئے مقدس ہے؟ آپ مسیح کی صورت میں بنی تصویر کو  یا پھر  ماں مریم کی تصویر کو اگر زمین پر رکھنا پسند نہیں کرتے تو یقین مانیں آپ نے اپنے دل میں اسکو خداوند سے بڑھ کر عزت دے دی ہے۔

بت پرستی صرف تراشی ہوئی مورت تک نہیں ہے۔ کوئی بھی چیز جو کہ ہمارے لئے خداوند سے بڑھ کر ہوجائے بت پرستی کے زمرے میں آجاتی ہے۔  مثال کے طور پر آج کل لوگوں کو خداوند کی عبادت سے بڑھ کر ٹی وی دیکھنا اس لئے پسند ہے کہ من پسند ڈرامہ یا  پروگرام  مِس نہ ہوجائے۔  فون  کے ذریعہ سوشل میڈیا پر ٹائم گذارنایا پھر اسی قسم کے کچھ اور شوق بھی ہوسکتے ہیں جو کہ آپ کے قیمتی وقت میں زیادہ ضروری ہیں بنسبت خداوند کی عبادت کے۔ میں جھوٹ نہیں بولوں گی کہ میں نے بھی یہ سبق  اپنی غلطیوں سے سیکھا ہے۔ میں اب اپنی پوری کوشش کرتی ہوں کہ میں کسی بھی چیز کو  اپنی زندگی میں خداوند سے بڑھ کر درجہ نہ دوں۔  کبھی کبھی ابھی بھی غلطی کرتی ہوں مگر شکر ہو ہمارے خداوند کا جو کہ ہمیشہ سے یکساں ہے وہ اب بھی  میری غلطیوں کو معاف کرتے ہیں اگر میں اقرار کروں اور توبہ کروں کہ پھر ایسا نہیں کرونگی۔ میں اپنی حد وں کو مقرر کرنا سیکھ چکی ہوں اور اسے عمل میں لانے کی پوری کوشش کرتی ہوں۔ امید ہے کہ آپ بھی اپنی حد مقرر کرنے کی کوشش کریں گے۔

یوحنا 4:24 میں لکھا ہے؛

خدا روح ہے اور ضرور ہے کہ اسکے پرستار روح اور سچائی سے پرستش کریں۔

مجھے اور آپ کو خداوند کی موجودگی کی یاد دلانے کے لئے مجسموں کی ضرورت نہیں۔  میری جب رومن کیتھولک  مسیحیوں سے بات ہوتی ہے تو وہ اکثر مجھے اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ویسے ہی جیسے کہ خداوند کی ہیکل میں عہد کا صندوق تھا اور اسکے اوپر فرشتے بنائے گئے تھے تو انکے بنائے ہوئے مجسموں اور خداوند کے عہد کے صندوق   کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ ایسا وہ سوچتے ہیں مگر ایسا ہے نہیں۔ خداوند کے عہد  کے صندوق کے آگے بنی اسرائیل سجدہ نہیں کرتے تھے۔ خداوند کے عہد کا صندوق مقدس تھا۔ ہم خروج کے مطالعے میں  آگے عہد کے صندوق کے بارے میں پڑھیں گے کہ وہ کیوں مقدس تھا۔ ابھی میں یہی کہونگی کہ خداوند کے عہد کا صندوق بت پرستی کی فہرست میں نہیں آتا۔

خداوند ہمارا خدا غیور خدا ہے۔   بنی اسرائیل کو کلام میں خداوند کی "بیوی” کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان رشتے کو پاک کہا گیا ہے اور کون ہے جو کہ بے وفائی برداشت کر سکے؟ ایسا ہی کچھ خداوند بھی اپنے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ وہ اس بات کو برداشت نہیں کریں گے اور بت پرستی کی سزا تیسری اور چوتھی پشت تک دیں گے۔   کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کلام میں درج لعنتیں خداوند کے حکموں کی نافرمانی سے جڑی ہیں۔  مجھے کبھی کبھی یہ حکم بہت سخت لگتا تھا خاص طور پر یہ سوچ کر کہ  آخر بچوں کا کیا قصور ہے۔ اب جب صحیح طور پر اس حکم کی اور اس سے جڑی لعنت کی سمجھ آئی ہے تو میں کہتی ہوں کہ خداوند برحق ہیں۔   میں اس آرٹیکل کو بہت لمبا نہیں کرنا چاہتی ۔ آپ نے شیماع کے بارے میں شاید پڑھا ہو۔ آپ کلام سے استثنا 6:4 سے 9 آیات کو پڑھیں۔ اگر والدین خداوند کے حکموں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو وہ آگے بچوں کو بھی خداوند کی راہ کی تربیت نہیں دیں گے۔  خداوند نے بنی اسرائیل  قوم کو اسیری میں بھیج دیا تھا۔ بت پرستی کی ابتدا والدین نے کی مگر انکے ساتھ ساتھ انکے بچوں کو بھی اس سزا کو  بھگتنا پڑا۔  اگر آپ دانی ایل نبی کی کہانی پڑھیں گے تو جانیں گے کہ بے شک دانی ایل نبی اسیری میں بابل گئے تھے مگر چونکہ انھوں نے خداوند کے حکموں کو اسیری میں رہتے ہوئے بھی مانا اسلئے خداوند نے سرفرازی دی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ  اسرائیل کی سرزمین پر نہیں تھے۔   آپ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ خداوند کا اس حکم سے جڑی  تیسری اور چوتھی پشت تک سزا کا کیا مطلب ہے۔ اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ خداوند بے قصور بچوں کو سزا دے رہے ہیں تبھی لکھا ہے کہ ہزاروں پر  جو خداوند سے محبت رکھتے ہیں اور جو خداوند کے حکموں کو مانتے ہیں خداوند ان پر رحم کرتے ہیں۔

میری خداوند سے یہی دعا ہے کہ میں اور آپ ان لوگوں میں سے ہوں جن پر خداوند سے محبت رکھنے کے سبب سے اور اسکے حکموں پر عمل کرنے کے سبب سے رحم ہوا ہو۔ ہم خروج کے 20 باب کے مطالعے کو اگلی دفعہ جاری رکھیں گے۔