آپ کلام میں سے پیدائش کا 46 باب پورا خود پڑھیں۔
پچھلے باب میں ہم نے پڑھا تھا کہ یوسف نے اپنے آپ کو اپنے بھائیوں کے سامنے بے نقاب کیا اور اپنے باپ کو اسکے خاندان سمیت اپنے پاس بلانے کے لئے گاڑیاں بھیجیں۔
کس نے سوچا ہوگا کہ یعقوب کی خوشیاں اسکے بڑھاپے میں مکمل ہو سکتی ہیں۔ اس نے بھی تو کتنے غم سہے تھے صرف اور صرف برکتوں کو حاصل کرنے کے لئے ، تبھی تو خدا نے اسکا نام بدل کر اسرائیل رکھ دیا یہ کہہ کر کہ "تو نے خدا اور آدمیوں کے ساتھ زورآزمائی کی اور غالب ہوا (پیدائش 32:28)۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل کا نام اسکی سرکشی کے باعث پڑا تو آپ غلط ہیں۔ اسکو شروع سے ہی ان باتوں سے لگاؤ تھا جو خدا کی نظر میں قابل ستائش تھیں۔ جب اس نے اپنے بھائی عیسو سے اسکے پہلوٹھے ہونے کا حق دال کے عوض خریدا تھا تو وہ اس نے پہلوٹھے کی دولت حاصل کرنے کے لئے نہیں خریدا تھا۔ اسے تب بھی خدا کی برکت چاہیے تھی۔ اور جب خدا سے بھی اس نے زورآزمائی کی تھی تو وہ اس نے خدا کی برکت پانے کے لئے کی تھی۔ اپنا سب کچھ تو وہ اس زور آزمائی سے پہلے عیسو کو نذرانہ کے طور پر بھیج چکا تھا۔ وہ تب برکت پانے میں غالب آیا جب وہ خالی ہاتھ تھا۔ پیدائش 46 باب پڑھنا جاری رکھیں

