پیدائش 44 باب

image_pdfimage_print

آپ کلام میں سے پیدائش 44 باب پورا پڑھیں۔ میں صرف وہی آیات لکھوں گی جس کی میں ضرورت سمجھوں گی۔

پچھلے باب میں ہم نے پڑھا تھا کہ یعقوب نے بنیمین کو اسکے باقی بھائیوں کے ساتھ جانے کی اجازت دی تھی اور یوسف  نے انکو اپنے گھر میں کھانا کھلایا۔ یوسف نے اپنے گھر کے منتظم کو حکم دیا کہ ان آدمیوں کے بوروں میں جتنا اناج وہ لے کر جا سکتے ہیں بھر دے اور ہر شخص کی نقدی بھی اسکے بورے میں رکھ دے ۔ اس نے ساتھ ہی میں اسے یہ بھی حکم دیا کہ وہ یوسف کا چاندی کا پیالہ سب سے چھوٹے کے بورے میں اسکی نقدی کے ساتھ رکھ دے۔ اس نے ویسا ہی کیا۔

صبح ہوتے ہی یوسف کے بھائی   اپنے سفر پر روانہ ہوئے۔ ابھی وہ  شہر سے نکل کر بہت زیادہ دور نہیں گئے ہونگے کہ یوسف نے اپنے گھر کے منتظم کو کہا کہ جا کر انکا پیچھا کرے اور انکو  پکڑ کر ان سے کہے کہ کہ نیکی کے عوض تم نے بدی کیوں کی؟ اس نے ساتھ میں پیالے کی بابت   یہ بھی کہنے کو کہا (پیدائش 44:5):

کیا یہ وہی چیز نہیں جس سے میرا آقا پیتا اور اسی سے ٹھیک فال بھی کھولا کرتا ہے؟ تم نے جو یہ کیا سو برا کیا۔

یوسف کے گھر کے منتظم نے یوسف کے کہنے کے مطابق کیا۔ یوسف کے بھائیو ں نے کہا کہ وہ کیوں ایسا کہہ رہا ہے۔ انھوں نے تو وہ نقدی بھی لوٹانے کی کوشش کی تھی تو پھر وہ سونا چاندی کیوں چرائیں گے۔ چونکہ انھیں پورا پورا یقین تھا کہ ان میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا  اسلئے انھوں نے یہاں تک کہا دیا کہ جس کے پاس سے وہ پیالہ نکلے وہ مار دیا جائے اور باقی اسکے غلام بن جائیں گے۔ یوسف کے منتظم نے کہا تمہارے ہی کہنے کے مطابق ہو گا کہ جس کے پاس وہ پیالہ نکلے گا وہ غلام بنے گا اور باقی بے گناہ ٹھہریں گے۔ انھوں نے اپنے اپنے بورے زمین پر اتارے۔ بڑے سے چھوٹے تک تلاشی شروع ہوئی۔ ایک بار پھر سے  ترتیب کے مطابق، بڑے سے چھوٹے تک۔ بنیمین چھوٹا تھا اسکے بورے سے پیالہ ملا۔ بنیمین کو تو یوسف کا منتظم ہی پکڑ کر لایا ہو گا مگر باقی بھائی بھی واپس شہر کو لوٹے اور یوسف کے گھر آئے کیونکہ وہ ابھی تک گھر پر ہی تھا۔  تب یوسف نے ان سے کہا (پیدائش 44:15)

تب یوسف نے ان سے کہا تم نے یہ کیسا کام کیا؟ کیا تمکو معلوم نہیں کہ مجھ سا آدمی ٹھیک فال کھولتا ہے؟

شاید آپ کو علم ہو کہ فرعون اور مصری  جادوگر وغیرہ چاندی کے پیالے کو فال کھولنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔  خدا نے احبار 19:26 میں کہا  ہے؛

تم کسی چیز کو خون سمیت نہ کھانا اور نہ جادو منتر کرنا نہ شگون نکالنا۔

آپ کو اسی قسم کا حکم استثنا 18:10 میں بھی نظر آئے گا جس میں لکھا ہے؛

تجھ میں ہرگز کوئی ایسا نہ ہو جو اپنے بیٹے یا بیٹی کو آگ میں جلوائے یا فالگیر یا شگون نکالنے والا یا افسون گریا جادوگر۔

بہت سوں نے یوسف کی اس بات کی تشریح اپنے لفظوں میں ایسے بیان کی ہے جیسے کہ یوسف نے واقعی میں یہ کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ میرا نہیں خیال کہ یوسف نے اس قسم کی حرکت کا کبھی سوچا بھی ہوگا۔ اسے اچھی طرح سے علم تھا کہ خدا اپنے بھید اس پر ان چیزوں کے بغیر کھولتا آیا ہے اور تبھی وہ اس عہدے پر پہنچا تھا۔  وہ اپنے بھائیوں کی نظر میں ایک مصری حاکم تھا انھیں اسکی اصلیت نہیں پتہ تھی کیوں کہ اسکا حلیہ مصریوں جیسا تھا اور وہ ان سے بات بھی مصری زبان میں کرتا آیا  تھا۔ دوسری طرف یوسف کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ اسکے بھائی بدل گئے ہیں یا کہ وہ بنیمین اسکے سگے بھائی کے ساتھ بھی ویسے ہی تھے جیسے کہ وہ اسکے ساتھ تھے۔ اس نے بنیمین کو کھانے کے وقت بھی زیادہ حصہ دے کر انکے اندر کی نفرت کو دیکھنے کی کوشش کی تھی اور یہ پیالہ بھی بنیمین کے بورے میں ڈال کر وہ انکا امتحان ہی لے رہا تھا۔ یوسف نے جب انکو کہا کہ "کیا انکو علم نہیں کہ اس جیسا آدمی ٹھیک فال کھولتا ہے”، تو اس سے اسکی مراد اپنے آپ کو ان پر وہ مصری حاکم ظاہر کرنا تھا جو کہ تمام  پوشیدہ باتوں کو بھی  اپنے علم سے جان سکتا تھا۔ آخر کیا اس نے انھیں کھانے کی میز پر انکی عمر کی ترتیب کے مطابق نہیں بٹھایا تھا جس پر انھیں خود بھی حیرانگی ہوئی تھی۔

ان بھائیوں نے کہا کہ ہم اپنے آپ کو بری تو ٹھہرا نہیں سکتے  چونکہ یوسف نے انکی بدی پکڑ لی ہے اسلئے وہ تمام اسکے غلام ہیں مگر یوسف نے کہا نہیں صرف وہ جس سے پیالہ ملا ہے باقی اپنے باپ کےپاس  واپس لوٹ جائیں۔  یوسف کو غلامی میں بیچتے وقت ان بھائیوں نے اپنی بہتری کی سوچی تھی  مگر بنیمین کو غلامی میں جاتا دیکھ کر اس بار وہ چپ نہیں تھے۔ وہی یہوداہ جس نے اپنے باپ کو بنیمین کی ضمانت دی تھی بنیمین کے حق میں بولا۔ اسے اچھے طریقے سے اس بات کا علم تھا کہ وہ مصر کے اس حاکم سے بات کر رہا ہے جو کہ فرعون کی مانند تھا جو کہ اسکو اس کے بولنے کی گستاخی پر سزا بھی دے سکتا ہے۔ مگر نہیں یہوداہ اب پہلے جیسا نہیں تھا اسے اپنے بھائی کو غلامی سے بچانا تھا، اسے اپنے باپ سے کیا وعدہ پورا کرنا  تھا چاہے اس میں اسکی اپنی زندگی چلی جاتی۔  اس نے یوسف کو یاد دلایا کہ کیسے پہلی بار جب وہ آئے تھے اور یوسف نے انکے خاندان کا پوچھا تھا تو انھوں نے بتایا تھا کہ انکا ایک بھائی اور بھی ہے اور کیسے ایک بھائی مر چکا ہے۔ اس نے بیان کیا کہ کہ کیسے اس نے اپنے باپ کو اپنی ضمانت دی تھی کہ وہ بنیمین کو انکے ساتھ جانے دے کیونکہ یوسف (یعنی صفنات فعنیح) نے کہا تھا کہ اگر انکا چھوٹا بھائی ساتھ نہ آئے تو وہ اسکا منہ نہ دیکھیں گے۔  یہوداہ نے یوسف کو بتایا کہ کیسے اسکے باپ نےاس سے  کہا تھا (پیدائش 44:27 سے 29)؛

اور تیرے خادم میرے باپ نے ہم سے کہا تم  جانتے ہو کہ میری بیوی کے مجھ سے دو بیٹے ہوئے۔ ایک تو مجھے چھوڑ ہی گیااور میں نے خیال کیا کہ وہ ضرور پھاڑ ڈالا گیا ہوگا اور میں نے اسے اس وقت سے پھر نہیں دیکھا۔ اب اگر تم اسکو بھی میرے پاس سے لیجاؤ اور اس پر کوئی آفت آ پڑے تو تم میرے سفید بالوں کو غم کے ساتھ قبر میں اتاروگے۔

یہوداہ نے یوسف کو کہا کہ بنیمین کی جان اسکے باپ کی جان کے ساتھ وابستہ ہے اسلئے اگر بنیمین  انکے باپ کے پاس واپس نہ گیا تو انکا باپ مر جائیگا۔ یہوداہ نے یوسف کا کہا کہ وہ اسکا ضامن ہے کیونکہ اس نے اپنے باپ کو کہا تھا کہ اگر وہ اسکو اپنے باپ کے واپس نہیں لائیگا تو وہ ہمیشہ کے لئے اسکا گنہگار ٹھہرے گا۔ یہوداہ نے اپنے آپ کو بنیمین کی جگہ پیش کیا کہ وہ اسکا غلام بن جاتا ہے مگر وہ بنیمین کو واپس جانے دے تاکہ اسے اپنے باپ کی ایسی حالت نہ دیکھنی پڑے جو اسکے باپ پر بنیمین کے نہ ہونے کی صورت میں آئے گی۔

یوسف کو تو اس بات کا بھی علم نہیں تھا کہ اسکے باپ کے خیال میں کوئی درندہ اسے کھا چکا ہے اور وہ زندہ نہیں۔ یہوداہ کی باتوں نے اسے اس بات کی سچائی دکھا ڈالی تھی کہ اسکے بھائی پہلے جیسے نہیں رہے تھے۔   وہی بھائی جس نے اسے غلامی میں بیچا تھا خود تاعمر غلام بننے کو تیار تھا کیونکہ وہ اپنے باپ کو  کوئی اور تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔ یہوداہ نے صحیح معنوں میں اپنے پہلوٹھے ہونے کا حق ادا کیا۔ اس نے اپنے بھائی اور باپ کی جان کے تحفظ کا سوچا۔  یشوعا نے یوحنا 15:13 میں کہا؛

اس سے زیادہ محبت کوئی شخص نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لئے دے دے۔

یہوداہ نے یہ اپنے بھائی کے لئے کرنا چاہا۔  یشوعا نے یہی ہمارے لئے کیا کہ اس نے ہمارے گناہوں کی سزا اپنے اوپر لے لی تاکہ ہم نجات پائیں۔ یشوعا کے پیروکار ہونے کے ناطے  اب ہمیں آگے کیا کرنا چاہئے؟

ہم پیدائش 45 باب کا مطالعہ اگلی بار کریں گے۔  میری خدا سے دعا ہے کہ ہم صرف لفظوں سے ہی نہیں بلکہ اپنے اعمال سے بھی دوسروں کو دکھا سکیں کہ خدا کے حکم کے مطابق ہمیں ان سے محبت ہے ویسی ہی جیسی ہم اپنے آپ سے رکھتے ہیں،  یشوعا کے نام میں آمین۔