پیدائش 46 باب

image_pdfimage_print

آپ کلام میں سے پیدائش کا 46 باب پورا خود پڑھیں۔

پچھلے باب میں ہم نے پڑھا تھا کہ یوسف نے اپنے آپ کو اپنے بھائیوں کے سامنے بے نقاب کیا اور اپنے باپ کو اسکے خاندان سمیت اپنے پاس بلانے کے لئے گاڑیاں بھیجیں۔

 کس نے سوچا ہوگا کہ یعقوب کی خوشیاں   اسکے بڑھاپے میں مکمل ہو سکتی ہیں۔ اس نے بھی تو کتنے غم سہے تھے صرف اور صرف برکتوں کو حاصل کرنے کے لئے ، تبھی تو خدا نے اسکا نام بدل کر اسرائیل رکھ دیا یہ کہہ کر کہ "تو نے خدا اور آدمیوں کے ساتھ زورآزمائی کی اور غالب ہوا (پیدائش 32:28)۔  اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل کا نام اسکی سرکشی کے باعث پڑا تو آپ غلط ہیں۔ اسکو شروع سے ہی ان باتوں سے لگاؤ تھا جو خدا کی نظر میں قابل ستائش تھیں۔ جب اس نے اپنے بھائی عیسو سے اسکے پہلوٹھے ہونے کا حق دال کے عوض خریدا تھا تو وہ اس نے پہلوٹھے کی دولت حاصل کرنے کے لئے نہیں خریدا تھا۔ اسے تب بھی خدا کی برکت چاہیے تھی۔ اور جب خدا سے بھی اس نے زورآزمائی کی تھی تو وہ اس نے خدا کی برکت پانے کے لئے کی تھی۔ اپنا سب کچھ تو وہ اس زور آزمائی سے پہلے عیسو کو نذرانہ کے طور پر بھیج چکا تھا۔ وہ تب برکت پانے میں   غالب آیا جب وہ خالی ہاتھ تھا۔

یشوعا نے مرقس 10:17 سے 31 میں  ایک امیر آدمی سے کہا کہ اپنا سب کچھ بیچ کر میرے پیچھے ہو لے۔ یہی ایک چیز تھی جو وہ نہ کر پایا،   باقی سب حکموں پر وہ عمل کرتا آیا تھا۔ اگر آپ کے دل میں پیسے کا پیار اتنا موجود ہے کہ آپ کسی کی بھی مدد اسلئے نہیں کرنا چاہتے کہ کہیں آپ غریب نہ ہوجائیں تو آپ کے لئے بھی آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے۔ اور اگر آپ یعقوب کی طرح سب کچھ دے کر خدا کی برکتوں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں تو ایک دن ضرور آئے گا کہ خدا آپ کی بھی تمام خوشیوں کوآہستہ آہستہ  پورا کریگا۔

اسرائیل (یعقوب) اپنا سب کچھ لیکر چلا اور پہلے بیرسبع پہنچ کر اس نے خداوند کے حضور میں قربانیاں گذارنیں۔   رات کو رویا میں خدا  نے اسرائیل سے بات کی۔  خدا نے اسے کہا (پیدائش 46:2 سے 4)

اور خدا نے رات کو رویا میں اسرائیل سے باتیں کیں اور کہا ائے یعقوب ائے یعقوب! اس نے جواب دیا میں حاضر ہوں۔ اس نے کہا میں خدا تیرے باپ کا خدا ہوں۔ مصر میں جانے سے نہ ڈر کیونکہ میں وہاں تجھ سے ایک بڑی قوم پیدا کرونگا۔ میں تیرے ساتھ مصر کو جاونگا اور پھر تجھے ضرور لوٹا بھی لاؤنگا اور یوسف اپنا ہاتھ تیری آنکھوں پر لگائیگا۔

وہ وقت آگیا تھا کہ خدا اُسے پورا کر سکے جو خدا نے ابرہام کو  کہا تھا (پیدائش 15:13 سے 16)۔  میں نے پیدائش 45 باب کے آرٹیکل میں ذکر کیا تھا کہ یوسف کی  تکلیف دہ زندگی  آخر میں  اسکے اپنے گھر والوں کے علاہ بہت سے لوگوں کے لئے بھی  کال کے دنوں میں نجات کا سبب بنی۔ پیدائش 15 باب میں خدا نے ابرہام کو کہا تھا کہ 400 سال تک اسکی نسل اس ملک میں غلامی کریگی  جو انکے لئے پردیسی ملک ہوگا اور جو انکے دکھ دینگے، خدا اس قوم کی عدالت کریگا۔ خدا نے کہا ابرہام کی چوتھی پشت یہاں (ملک کنعان) میں پھر سے لوٹ آئینگے کیونکہ اموریوں کے گناہ پورے نہیں ہوئے۔  خدا کے اپنے لوگوں پر تکلیف  کا مطلب  یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدا  ان غیرقوموں کی عدالت کرے  جو گناہ پر گناہ کرتے ہیں اور  اسکے لوگوں پر ظلم ڈھاتے ہیں اور خدا کے کلام کی سچائی کو قبول نہیں کرنا چاہتے ہیں۔  عین ممکن ہے کہ ابرہام نے اضحاق  کو اس پیشن گوئی  کے بارے میں بتایا ہوگا اور آگے اضحاق نے اپنے بیٹوں عیسو اور یعقوب کو بھی اس بارے میں بتایا ہوگا اور تبھی شاید یعقوب مصر جانے سے ڈر رہا ہو۔ کیونکہ خدا نے اس سے رویا میں ہمکلام ہوتے وقت کہا "مصر میں جانے سے نہ ڈر۔” یعقوب کو تو شاید اس بات کا بھی اندازہ نہ ہو کہ خدا نے کتنی بڑی قوم اسکے بیٹوں میں سے پیدا کرنی ہے۔ خدا نے یعقوب کو تسلی دی کہ یوسف ، یعقوب کی موت کے وقت اسکی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔

یعقوب کے لئے خدا کے یہ الفاظ ہی شاید بہت تسلی بخش تھے کہ خدا اسکے ساتھ مصر کو جائیگا اور پھر واپس انھیں یہاں لوٹا لائیگا۔ اس نے خدا کے کہنے پر اپنا تمام مال واسباب   کو اپنی اولاد اور انکے گھرانے کے ہمراہ ساتھ لیا اور ان گاڑیوں پر جو فرعون نے انکو لانے کو بھیجی تھیں، اس پر سوار ہو کر ملک مصر کوآئے۔  ایک بار پھر سے نام ہی نام J ۔ پیدائش 46:27 میں لکھا ہے ؛

سو یعقوب کے گھرانے کے لوگ جو ملک مصر میں آئے وہ سب ملکر ستر ہوئے۔

مگر اعمال 7:14 میں ستفنس نے اپنے بیان میں کہا؛

پھر یوسف نے اپنے باپ یعقوب اور سارے کنبے کو جو پچھتر جانیں تھیں بلا بھیجا۔

خروج 1:5 کے مطابق بھی تعداد ستر بنتی ہے  اور پھر استثنا  10:22 میں بھی ستر کا ہی ذکر ہے۔  یہ یاد رکھیں کہ اس تعداد میں یعقوب کی بہوؤں کو شامل نہیں کیا گیا ۔اگر انکے نام بھی شامل ہوتے تو تعداد اس سے بھی زیادہ لکھی  ہونی تھی۔  یہ نام یعقوب کی بیویوں کے مطابق لکھے گئے ہیں نہ کہ بیٹوں کی  عمروں کے مطابق۔ اور ساتھ ہی میں ان ناموں میں یعقوب کے تمام پوتوں کے نام بھی شامل ہیں۔ لیاہ سے پیدا ہوئے یعقوب کے بیٹوں  اور آگے انکے بیٹوں  کو ملا کر انکا شمار 33 بنا (پیدائش 46:15) ۔ پھر لیاہ کی لونڈی زلفہ سے  پیدا ہوئے بیٹوں اور انکے بیٹوں کو ملا کر کل 16 لوگ بنے (پیدائش46:18)۔ پھر راخل کے بیٹوں اور انکے بیٹوں کا شمار 14 تھا (پیدائش 46:22)۔ حالانکہ یوسف اور اسکے بیٹے تو پہلے سے ہی ملک مصر میں تھے مگر پھر بھی گنے گئے ہیں۔ آخر میں راخل کی لونڈی بلہاہ کے بیٹوں اور آگے انکے بیٹوں کے نام درج ہیں جو کہ کل سات لوگ بنے (پیدائش 46:25)۔ ایک اور بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ یہوداہ کے دو بیٹے عیر اور اونان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ملک کنعان میں ہی مر چکے تھے مگر پھر بھی انکے ناموں کا شمار کیا گیا۔  بنیمین کے دس بیٹوں کے نام درج ہیں جو کہ تمام شاید اس وقت تک پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔

گنتی 26 میں یوسف کے بیٹوں منسی اور افرائیم کے  کل  ملا کر پانچ بیٹوں کے نام بھی درج  ہیں۔ دانشوروں کی رائے میں اعمال 7:14 میں ستفنس نے  اس گنتی میں منسی اور افرائیم کے پانچ بیٹوں کے نام بھی ملائے ہیں۔ کیونکہ بات ملک مصر میں بنی اسرائیل کے ایک قوم کے طور پر داخل ہونے کی ہو رہی تھی۔ یوسف اور اسکے بیٹے تو پہلے سے ہی وہاں تھے اسرائیل کے باقی گھرانے  کے لوگ بعد میں ملک مصر میں داخل ہوئے تھے۔ دانشوروں کا یہ بھی خیال ہے کہ 70 علامتی طور پر لکھا گیا ہے کیونکہ پیدائش 46:26 میں 66 لوگوں کا کہا گیا ہے جو کہ مصر میں آئے۔  آپ کلام کی ان بظاہر چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو ذہن میں رکھ کر یہ نہ سوچیں کہ کلام میں کوئی غلطی ہے کیونکہ کلام میں غلطی نہیں ہے۔ اس میں وہ راز کی باتیں چھپی ہیں جو کہ صحیح موقع  آنے پر خدا اپنے لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔

یہوداہ کو یعقوب نے اپنے آگے یوسف کے پاس بھیجا  تاکہ وہ انھیں جشن کا علاقہ دکھائے۔ یوسف اپنی رتھ میں اپنے باپ  کے استقبال کو گیا اور اسکو لپٹ کر دیر تک روتا رہا۔ اسرائیل کو تسلی ہوئی کہ اب وہ چاہے مر بھی جائے  کیونکہ اس نے اپنے بیٹے یوسف کو جسکو وہ مرا ہوا سمجھ رہے تھے جیتا دیکھ رہا تھا۔ یوسف نے انھیں کہا کہ وہ فرعون کو جا کر خبر دیتا ہے کہ اسکا گھرانا آگیا ہے۔ اس نے انکو خاص تاکید کی کہ جب فرعون پوچھے کہ انکا پیشہ کیا ہے تو وہ اسے یہی بتائیں کہ وہ چوپایوں کو پالتے آئے ہیں یہی انکا پیشہ ہے کیونکہ تب وہ جشن کے علاقہ میں رہ سکیں گے۔ مصریوں کو چوپانوں سے نفرت ہے۔

ہم پیدائش 47 باب کا مطالعہ اگلی دفعہ کریں گے۔ میری خدا سے دعا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو ستانے والی غیر قوموں کی عدالت جلد کرے یشوعا کے نام میں۔ آمین