(پیدائش 14باب (تیسرا حصہ

image_pdfimage_print

 آج ہم پیدائش کے 14 باب میں بیان کئے گئے "ملک صدق سالم کا بادشاہ۔۔” کے بارے میں مطالعہ کریں گے۔ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ  ملک صدق کا مطلب "راستبازی کا بادشاہ ” بنتا ہے اور "سالم ” یروشلیم کا پرانا نام ہے۔

یشوعا  مشیاخ (یسوع مسیح) کے بارے میں پرانے عہد نامے کو 365 سے زیادہ پیشن گوئیاں کی گئی تھیں اور مسیحا کو ان تمام پیشن گوئیوں کو پورا کرنا کرنا تھا۔ اگر آپ نے میرا آرٹیکل "مسیحا بن یوسف اور مسیحا بن داود” نہیں پڑھا تو آپ اسکو اردو آرٹیکلز میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہودیوں کے علم کے مطابق خاص مقرر کردہ وقت پر مسیحا نے آنا تھا، اس نے  اپنے لوگوں کو رہائی دلانی تھی ، توریت کو سکھانا تھا،  دکھ اٹھانا تھا، مصلوب ہونا تھا اور اسرائیل پر اپنی حکومت قائم کرنا تھی۔  پرانی تلمود کے غیر مرتب شدہ  بیان کے مطابق مسیحا نے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ آنا تھا۔ مگر جب یہودیوں نے یشوعا کو اپنا نجات دہندہ رد کیا تو انھوں نےاس حصہ کو  نکال دیا یہ سوچ کر کہ پیشن گوئیوں کے مطابق مسیحا نے ایک ہی دفعہ آنا ہے اور ان تمام باتوں کو پورا کرنا ہے۔  ہم ابھی ان تمام باتوں کی تفصیل میں تو نہیں جا سکتے مگر آنے والے حوالوں میں ان باتوں کا مطالعہ ضرور کرتے رہیں گے۔ آج ان پیشن گوئیوں میں سے ایک بات ہم ضرور دیکھیں گے کہ جیسے عبرانیوں کا 7 اور 8 باب کن باتوں کی بنا پر کہتا ہے کہ یشوعا (یسوع) ہمارا سردار کاہن ، ملک صدق سالم کے بادشاہ کے طریقے کا سردار کاہن ہے۔

پہلی اور سب سے اہم بات جو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ موسویٰ شریعت کے مطابق خدا نے لاویوں کو  باقی بنی اسرائیل کے قبیلوں سے الگ کر دیا کہ صرف انکا قبیلہ خیمہ اجتماع کی خدمت کریں (گنتی 18:6)۔ گنتی 18 باب میں انکے سپر کی گئی ذمہ داریاں بیان ہیں۔ جو بات یہودیوں کے لیے معمہ تھی کہ کیسے مسیحا یہوداہ کے قبیلے سے ہوگا اور  بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ میں سردار کاہن بھی،  وہ خدا نے انکو زبور 110:4 کے حوالے سے سمجھائی جس میں لکھا ہے؛

 خداوند نے قسم کھائی ہے اور پھریگا نہیں کہ تو ملک صدق کے طور پر ابد تک کاہن ہے۔

 لاوی کاہن بادشاہ نہیں بن سکتا تھا ۔ ملک صدق نہ صرف خدا تعالےٰ کا کاہن تھا بلکہ سالم کا بادشاہ بھی تھا۔  یشوعا کاہن کے طور پر آچکا ہے اور بادشاہ کے طور پر اسرائیل پر حکومت کرنے پھر انے والے ہے۔ زکریاہ 6 باب کی 11 اور 12 آیت میں ہے؛

 اور ان سے سونا چاندی لیکر تاج بنا اور یشوع بن یہوصدق سردار کاہن کو پہنا۔ اور اس سے کہہ کہ رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ دیکھ وہ شخص جسکا نام شاخ ہے اسکے زیر سایہ خوشحالی ہو گی اور وہ خداوند کی ہیکل کو تعمیر کریگا۔

 وہ شخص جسکا نام شاخ ہے۔۔۔ وہ خداوند کی ہیکل تعمیر کرے گا۔ کون شخص ہے جس کا نام شاخ ہے؟  یہ بھی مسیحا کے بارے میں پیشن گوئی کا ایک اہم حصہ ہے۔  "شاخ” یہ عبرانی زبان میں لفظ "נֵצֶר، نٹ –زر، netzer” ہے۔ اور عبرانی کلام میں یہی لفظ یسعیاہ  11:1 اور 4:2  میں استعمال ہوا ہے۔ اردو کی بائبل میں یسعیاہ 11:1 میں "شاخ” اور یسعیاہ 4:2 میں "رویئدگی” سے نٹ-زر کا ترجمہ لکھا گیا ہے۔ یہی لفظ آپ یرمیاہ 33:15 اور 23:5 میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ متی 2:23 آیت میں لکھا ہے؛

اور ناصرۃ نام کے ایک شہر میں جابسا تاکہ جو نبیوں کی معرفت کہا گیا وہ پورا ہو کہ وہ ناصری کہلائیگا۔

آپ خود اپنے حوالے کے لیے یسعیاہ 53:2 اور یوحنا 1:46 بھی پڑھ سکتے ہیں۔ ناصرۃ کو عبرانی میں”  נצרת”  لکھا جاتا ہے۔ یشوعا کو ناصری اسلئے کہا گیا تھا کہ وہ ، وہ شاخ ہے "نٹ-زر”  جسکے بارے میں نبیوں نے پیشن گوئی کی تھی کہ وہ ادنیٰ اور حقیر تھا   (زبور 119:141) اور معماروں نے اسکو رد کر دیا تھا ۔ زیتون کے درخت کی ایک انوکھی بات یہ ہے کہ اگر درخت کو اکھاڑ بھی دیا جائے یا پھر اگر درخت مردہ بھی ہو جائے تو سالوں بعد بھی اسکی نئی شاخ پھوٹ نکلتی ہے۔

خیر واپس ہم ملک صدق کی بات کرتے ہیں ۔ کاہن کا کام تھا  کہ بنی اسرائیل کے لائے ہوئے کفارہ کو خداوند کے حضور پیش کرے اور سال میں ایک دفعہ خیمہ اجتماع کے اندر پاکترین مقام کے اندر جائے (احبار 16 ) سردار کاہن کا کام تھا کہ بنی اسرائیل کی سب بدکاریوں اور انکے گناہوں کا اقرار کرے اور انکو برکت دے۔ یشوعا نے یہ سب ہمارے لیے کیا اور اسی بنا پر یوحنا 17 باب میں ہم یشوعا کی دعا کو پڑھتے ہیں جس میں اس نے ملک صدق کے کاہن کے طریقے سے ہمارے لیے دعا کی۔ اگلی بار جب آپ یوحنا 17 باب پڑھیں تو یہ ذہن میں رکھ کر پڑھیں کہ آپ کے سردار کاہن نے خاص آپ کے لیے دعا مانگی تھی۔

اگر آپ کے ذہن میں اس سے متعلق کوئی اور سوال ہو تو ضرور مجھ سے پوچھیں میں اپنی پوری کوشش کروں گی کہ خدا کی مدد سے کلام میں سے آپ کو صحیح جواب بیان کروں۔

ابرام نے سدوم کے بادشاہ کو مال ، لوگوں سمیت واپس کیا مگر بادشاہ نے اسے کہا کہ وہ مال اپنے لیے رکھ سکتا ہے۔ ابرام نے مال رکھنے سے انکار کر دیا یہ کہہ کر کہ سدوم کا بادشاہ کبھی بھی اس پر یہ نہ جتا سکے کہ اس کی بنا پر ابرام دولت مند ہوا ہے۔ ابرام کی ان باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اسکو دولت مند بننے کی خواہش نہیں تھی وہ خدا کی برکتوں تلے رہنا چاہتا تھا۔ کل ہم نے پڑھا تھا کہ جب ہم خدا کی دی ہوئی نعمتوں  میں سے اسکو دیتے ہیں تو وہ ہمیں اتنا بخشتا ہے کہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں رہتی اور یہی سب سے بڑی خدا کی برکت ہے۔ خدا کی برکتوں کے خواہش مند ہوں نہ کہ دنیا کی دولت کے۔

اگلی بار ہم پیدائش 15 باب کا مطالعہ کریں گے۔ خدا آپ سب کو اپنی پناہ میں رکھے اور اپنا خاص اطمینان بخشے۔ شبات شلوم

(پیدائش 14باب (تیسرا حصہ” پر ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں۔