عزرا 3 باب – پہلا حصہ

image_pdfimage_print

آپ کلام میں سے عزرا کا 3 باب مکمل خود پڑھیں۔

پچھلے حصے میں ہم نے چند ان ناموں کو دیکھا تھا جو کہ واپس یروشلیم اور یہوداہ کے شہروں میں آئے تھے اور پھر سے بس گئے تھے۔   کہنے کو یہوداہ کے یہ شہر انکے اپنے شہر تھے مگر زیادہ تر لوگ ان علاقوں میں نہیں پلے بڑھے تھے۔ انکے لئے نئے سرے سے زندگی کو شروع کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں تھا مگر وہ ایسا کرنے میں خوش تھے۔ افسوس کہ بنی اسرائیل کے باقی دس قبیلوں نے بالکل بھی نہیں سوچا کہ خداوند کا شہر اور اس میں خداوند کی ہیکل کسی اہمیت کے قابل تھے۔   وہ دوسری ہیکل کی تعمیر کا حصہ نہیں تھے۔ آپ  خود اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا خداوند کا شہر اور اسکی ہیکل ابھی بھی اہمیت رکھتی ہے؟

عبرانی کیلنڈر کا ساتواں مہینہ تشری کا مہینہ ہے جو کہ ستمبر یا اکتوبر میں پڑتا ہے۔    انھوں نے ہیکل کی تعمیر سے پہلے خدا کا مذبح بنایا تاکہ قربانی چڑھا سکیں  کیونکہ بغیر مذبح گاہ کے قربانیاں چڑھانا ممنوع ہے۔ ہمیں  استثنا 12:5 سے 6  اور 13 سے 14آیات میں لکھا ملتا  ہے کہ؛

بلکہ جس جگہ کو خداوند تمہارا خدا تمہارے سب قبیلوں میں سے چن لے تاکہ وہاں اپنا نام قائم کرے تم اسکے اسی مسکن کے طالب ہوکر وہاں جایا کرنا۔ اور وہیں تم اپنی سوختنی قربانیوں اور ذبیحوں اور دہ یکیوں اور اٹھانے کی قربانیوں اور اپنی منتوں کی چیزوں اور اپنی رضا کی قربانیوں اور گائے بیلوں اور بھیڑ بکریوں کے پہلوٹھوں کو گذراننا۔

اور تو خبردار رہنا تا ایسا نہ ہوکہ جس جگہ کو دیکھ لے وہیں اپنی سوختنی قربانی چڑھائے۔ بلکہ فقط اسی جگہ جسے خداوند تیرے قبیلہ میں چن لے تو اپنی سوختنی قربانیاں گذراننا اور وہیں سب کچھ جسکا میں تجھ کو حکم دیتا ہوں کرنا۔

استثنا 12 باب میں ایک دفعہ نہیں بلکہ ٹوٹل تین دفعہ اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ قربانیاں اس جگہ چڑھائی جائیں جس جگہ کو خداوند چنے۔ جب ہیکل نہیں رہی تھی تو یہودیوں نے قربانیاں گذراننا بند کردیا تھا مگر اب جبکہ انھیں ایک بار پھر سے موقع ملا تو انھوں نے قربانیاں چڑھانے کے لئے  سب سے پہلے  خدا کا مذبح بنایا۔ یہودی لوگ یہ بات اچھی طرح سے سمجھتے تھے کہ فقط قربانیوں سے انکی خطائیں معاف نہیں ہوتیں تھی وہ سلیمان بادشاہ کی تعلیم سے بھی واقف تھے جس نے امثال 28:13 میں لکھا؛

جو اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے کامیاب نہ ہوگا لیکن جو انکا اقرار کرکے انکو ترک کرتا ہے اس پر رحمت ہوگی۔

اور کچھ ایسا ہی ہمیں ہوسیع 14:2میں لکھا ملتا ہے؛

کلام لے کر خداوند کی طرف رجوع لاؤ اور کہو ہماری تمام بدکرداری کو دور کر اور فضل سے ہمکو قبول فرما۔ تب ہم اپنے لبوں سے قربانیاں گذرانینگے۔

وہ جانتے تھے کہ بغیر گناہوں کا  اقرار کئے قربانی چڑھانا بے فائدہ ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ خداوند کا فضل انکے لئے اب بھی تھا۔ تشری کا مہینہ اہمیت کے قابل ہے کیونکہ اس مہینے میں  خداوند کی دی ہوئی تین عیدیں پڑتی ہیں۔  پہلی عید کا ذکر احبار 23:23 سے 25 آیات میں ملتا ہے جس میں لکھا ہے؛

اور خداوند نے موسیٰ سے کہا۔ بنی اسرائیل سے کہ کہ ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ تمہارے لئے خاص آرام کا دن ہو۔ اس میں یادگاری کے لئے نرسنگے پھونکے جائیں اور مقدس مجمع ہو۔ تم اس روز کوئی خادمانہ کام نہ کرنا اور خداوند کے حضور آتشین قربانی گذراننا۔

جب آپ کلام مقدس میں خاص آرام کو پڑھیں تو جان جائیں کہ اس سے مراد "خاص سبت” ہے جو کہ ہفتہ وار سبت سے فرق ہے۔ اوپر درج اس عید کو نرسنگوں کی عید یا پھر عبرانی میں یوم تیروعہ  کہا جاتا ہے۔ پھر اسی ساتویں مہینے کی ایک اور عید کا ذکر احبار 23:26 سے 31 میں ملتا ہے؛

اور خداوند نے موسیٰ سے کہا۔ اسی ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو کفارہ کا دن ہے۔ اس روز تمہارا مقدس مجمع ہو اور تم اپنی جانوں کو دکھ دینا اور خداوند کے حضور آتشین قربانی گذراننا۔ تم اس دن کسی طرح کا کام نہ کرنا کیونکہ وہ کفارہ کا دن ہے جس میں خداوند تمہارے خدا کے حضور تمہارے لئے کفارہ دیا جائیگا۔ جو شخص اس دن اپنی جان کو دکھ نہ دے وہ اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائیگا۔ اور جو شخص اس دن کسی طرح کا کام کرے اسے میں اسکے لوگوں میں سے فنا کردونگا۔ تم کسی طرح کا کام مت کرنا۔ تمہاری سب سکونت گاہوں میں پشت در پشت سدا یہی آئین رہیگا۔

 اس عید کو  یوم کفارہ  یا عبرانی میں یوم کیپور کہا جاتا ہے۔ اور پھر اسی مہینے میں تیسری عید کا ذکر احبار23:39 سے 42 میں ملتا ہے؛

اور ساتویں مہینے کی پندرہویں تاریخ سے جب تم زمین کی پیداوار جمع کر چکو تو سات دن تک خداوند کی عید ماننا۔ پہلا دن خاص آرام کا ہو اور آٹھواں دن بھی خاص آرام ہی کا ہو۔ سو تم پہلے دن خوشنما درختوں کے پھل اور کھجور کی ڈالیاں اور گھنے درختوں کی شاخیں اور ندیوں کی بیدمجنوں لینا اور تم خداوند اپنے خدا کے آگے سات دن تک خوشی منانا۔ اور تم ہر سال خداوند کے لئے سات روز تک یہ عید مانا کرنا۔ تمہاری نسل در نسل سدا یہی آئین رہیگا کہ تم ساتویں مہینے اس عید کو مانو۔ سات روز تک برابر تم سایبانوں میں رہنا۔ جتنے اسرائیل کی نسل کے ہیں سب کے سب سایبانوں میں رہیں۔

اس عید کو خیموں کی عید یا پھر عبرانی میں سکوت پکارا جاتا ہے۔  اگر آپ اپنے آپ کو بنی اسرائیل کا حصہ سمجھتے ہیں تو پھر آپ  کو   بلکہ نسل در نسل اس عید کو منانے کا کہا گیا ہے۔  اور اگر آپ بنی اسرائیل کا حصہ نہیں ہیں تو پھر آپ بے شک خداوند کے ان حکموں کو رد کر سکتے ہیں۔

اب اگر آپ کو عبرانی کیلنڈر کے ساتویں مہینے  میں منائی جانے والی عیدوں کے بارے میں کچھ پتہ چل گیا ہے تو آپ کے لئے یہ سمجھنا آسان ہوگیا ہو گا کہ عزرا 3:1 سے مراد یہ نہیں ہوسکتا کہ انھیں اسیری سے واپس آئے سات مہینے گذر گئے تھے اور وہ  سات مہینے کے بعد اکٹھے ہوئے تھے کہ خدا کے لئے یک جان ہو کر مذبح بنا سکیں ۔ نہیں انھیں خداوند کی دی ہوئی ان عیدوں کی بابت علم تھا  اور وہ جانتے تھے کہ خداوند نے یروشلیم کو چنا تھا کہ  وہاں خداوند کا نام ہو کیونکہ 2 تواریخ 6:6 میں  خداوند کے بارے میں لکھا ہے؛

پر میں نے یروشلیم کو چنا کہ وہاں میرا نام ہو اور داؤد کو چنا  تاکہ وہ میری قوم اسرائیل کا حاکم ہو۔

 کچھ اسی قسم کا حوالہ ہمیں زبور 132:13 سے 14 میں بھی ملتا ہے اور زکریاہ نبی کی کتاب کے 3 باب کی 2 آیت میں بھی نظر آتا ہے۔  یہ لوگ خداوند کے حکم کے مطابق اسکی دی ہوئی عیدوں کو منانے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے کیونکہ انھوں سالوں کے بعد ایک بار پھر سے موقع ملا تھا کہ خداوند کی چنی ہوئی جگہ  مقدس مجمع کی صورت میں جمع ہوکر اسکی عیدوں کو مناتے اور اسکے حضور میں  قربانی  گذرانتے۔ عزرا 3:2 میں لکھا ہے کہ یشوع  بن یوصدق اور اسکے بھائی اور زربابل بن سالتی ایل اور بھائی اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے اسرائیل کے خدا کا مذبح بنایا تاکہ اس پر موسیٰ کی دی ہوئی شریعت کے مطابق سوختنی قربانیاں چڑھائیں وہی جگہ جہاں پر پہلے کبھی پہلی ہیکل کا مذبح  تھا۔ کسی دانشور نے کہا کہ ” ہیکل مذبح کے بغیر کھڑی نہیں کی جاسکتی مگر مذبح ہیکل کے بغیر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔”

  انھوں نے ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ سے سوختنی قربانیاں چڑھانی شروع کیں اور خیموں کی عید بھی منائی۔ یشوع بن یوصدق انکا اسیری سے واپس آنے کا بعد کا پہلا سردار کاہن ٹھہرا۔   ہم  اپنے عزرا 3 باب کے مطالعے کو اگلی دفعہ جاری رکھیں گے۔  میری خدا سے آپ کے لئے خاص دعا ہے کہ وہ آپ کو اپنے کلام کی نہ صرف سمجھنے میں مدد دیں بلکہ اسکو اپنی زندگی کا حصہ بنانا بھی سکھائیں، یشوعا کے نام میں۔ آمین