Apologetics لفظ قدیم یونانی لفظ apologia سے اخذ ہوا ہے apologia کا مطلب "معذرت خواہی۔۔۔” ہے جیسے کہ انگریزی میں "an apology” ہے۔ Apologetics اسکو کہتے ہیں جو اپنے ایمان کا دفاع اور وضاحت اپنے ایمان کی کتاب میں سے دلائل اور ثبوتوں سے پیش کرے۔ میں بذات خود Apologetics میں شمار نہیں ہوتی مگر کلام کو پھیالنے کے لیے میں نے یہ ویب سائٹ بنائی ہے۔ میں کلام سے متعلق کوئی بھی بات آپ کو کلام میں سے حوالہ دے کر ہی بیان کرتی ہوں اسلئے میری آپ سے گذارش ہے کہ جب آپ اپنے سوال پیش کریں تو ان باتوں کی گائیڈ لائنز میں رہ کر پوچھیں:
1- دعا مانگیں کہ خداوند آپ کو کلام کو سیکھنے اور سمجھنے کی سمجھ دیں۔ کوئی بھی آپ کو کلام کو بہتر طریقے سے نہیں سمجھا سکتا کیونکہ وہ یا میں آپ کے استاد نہیں بلکہ خداوند ہیں۔ میں صرف اپنا علم آپ کے ساتھ شئیر کر رہی ہوں
2- کلام کو روزانہ پڑھیں۔ کچھ باتیں شاید آپ ابھی نہیں سمجھ پائیں گے۔ میرے اور آپ کے لیے کلام کی تمام باتوں کو ایک دم سے سمجھنا آسان نہیں۔ مگر خداوند کا کلام آپ کو آپ کے علم کے لیول کے مطابق گائیڈ کرتا رہے گا۔ آپ اپنی فہم کے مطابق نہ چلیں (امثال 3:5) بلکہ اسکو پہچاننے کی کوشش کریں اور اسکی راہنمائی میں چلیں (امثال 3:6اور 7 آیت)
3- یاد رکھیں کہ نجات دینا خداوند کے اختیار میں ہے۔ میں اور آپ کسی کی ذہنیت کو نہیں بدل سکتے صرف خداوند انہیں اپنے رحم اور فضل سے بچا سکتا ہیں، اسلیے غیر ضروری بحث سے پرہیز کریں کیونکہ اگر آپ کسی کو اپنے دلائل سے قائل نہیں کرسکتے تو شاید اپنا یا مذہب کا دشمن ضرور بنا ڈالیں گے۔ مہربانی فرما کر کمنٹس پوسٹ کرتے وقت ذاتی تنقید سے پرہیز کریں۔
4- اگر آپ کسی کے جواب سے مطمئن نہیں ہیں تو خداوند سے وہی سوال پوچھیں اور بھروسہ رکھیں کیونکہ وہ زندہ خدا ہیں وہ آپ کو صحیح وقت پر ضرور جواب دیں گے۔ مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ آپ کو مایوسی کی دلدل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ ایسے ہی سوچیں کہ جیسے آپ پہلے پرائمری سکول سے مڈل سکول گئے پھر ہائی سکول سے کالج۔ خداوند جانتے ہیں کہ آپ روحانیت میں کس درجے پر ہیں اگر آپ سیکھنا یا پڑھنا نہ چھوڑ دیں تو وہ آپ کو کلام کا علم دیتے رہیں گے جتنے کی آپ کو ضرورت ہے۔
5- جو آخری لازمی اور ضروری بات ہے وہ یہ کہ اگر کبھی آپ کو کہنا پڑے کہ مجھے نہیں معلوم تو یہ کہنے سے مت گھبرائیں کیونکہ جیسے ڈاکٹر کو مکینک کا کام نہیں پتا اگر وہ سیکھے نہ تو اسکو یہ کہنے میں کوئی شرمندگی نہیں اٹھانی پڑتی کیونکہ تقریباً ہر کوئی جانتا ہے کہ ڈاکٹر، ڈاکٹر ہے مکینک نہیں۔ اسی طرح سے خداوند نے آپ کے ذمے جو کام لگایا ہے وہ زیادہ ضروری ہے۔ جیسے کہ 1 کرنتھیوں کے 12 باب میں صاف لکھا ہے۔۔۔۔ہم سب باہم ملکر ایک ہی بدن ہیں۔۔۔۔۔
thanks