ہم نے آستر کی کتاب کے پہلے چار باب کا پچھلے آرٹیکلز میں مطالعہ کیا ہے۔ اگر آپ نے وہ چاروں حصے نہیں پڑھے تو آپ اس آرٹیکل کو پڑھنے سے پہلے ان چار باب کا مطالعہ پڑھیں تاکہ آپ کو آج کے مطالعے کی بہتر سمجھ آسکے۔
پچھلے باب میں ہم نے پڑھا کہ آستر نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بادشاہ اخسویرس کے سامنے جانے کا فیصلہ کیا اور مردکی کو کہا کہ باقی یہودیوں کے ساتھ مل کر اسکے لیے اس بات کا روزہ رکھیں اور دعا مانگیں۔ گو کہ بادشاہ کے سامنے اسکی اجازت کے بغیر آنے کامطلب موت، کچھ سخت حکم لگتا ہے مگر اگر آپ آج کے صدر کی سوچ کے مطابق سوچیں تو یہ کوئی اتنی حیران کن بات نہیں۔ بادشاہ کو کیا خبر کہ کون اسکا دشمن نکلے اور اسکی جان پر حملہ کر دے۔ کیا آپ آستر کی طرح خوشی خوشی اس کام کو انجام دینا چاہتے ہیں جو خدا نے آپ کے ذمہ سونپا ہے چاہے اسکا نتیجہ موت ہی کیوں نہ ہو؟ (آستر کی کتاب (پانچواں حصہ پڑھنا جاری رکھیں

