یروشلیم کے دس منفرد حقائق
ایک مقدس شہر کے وہ دس پہلو جن کا ذکر کم ہی کیا جاتا ہے.
یروشلیم محض ایک شہر کا نام نہیں، بلکہ تاریخ، مذہب، تہذیب اور روحانیت کا ایک ایسا سنگم ہے جس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے شہر میں تلاش کرنا آسان نہیں۔ یہودیت، مسیحیت اور اسلام تینوں کے نزدیک اس شہر کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ تاہم یروشلیم کی عظمت صرف اس کے مقدس مقامات، عبادت گاہوں اور تاریخی واقعات تک محدود نہیں، بلکہ اس کی روزمرہ زندگی، شہری قوانین اور معاشرتی نظم و ضبط سے متعلق بھی کئی ایسی روایات ملتی ہیں جو اسے دوسرے شہروں سے ممتاز کرتی ہیں۔
یہودی مذہبی روایت اور ربانی لٹریچر میں یروشلیم کے حوالے سے بعض ایسے مخصوص قوانین اور امتیازات کا ذکر ملتا ہے جنہیں جان کر اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم یہودی تصور میں اس شہر کی پاکیزگی اور تقدس کو کس قدر اہمیت حاصل تھی۔
آئیے، یروشلیم سے متعلق دس ایسے دلچسپ حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں۔
1۔ یروشلیم میں اپنا گھر واپس چھڑانے کا حق
احبار ( 25: 30 )عام طور پر بنی اسرائیل کے قوانین میں زمین اور جائیداد کی خرید و فروخت کے حوالے سے سالِ یوبلی (Jubilee) کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ تاہم یروشلیم کے فصیل دار شہر کے مکانوں کے لیے ایک الگ قانون موجود تھا۔
احبار 25: 30
"اور اگر وہ پورے ایک سال کی میعاد کے اندر چھڑایا نہ جائے تو اُس فصیل دار شہر کے مکان پر خریدار کا نسل در نسل دائمی قبضہ ہو جائے اور وہ سالِ یوبلی میں بھی نہ چھوٹے۔”
اس قانون کے مطابق فصیل دار شہر میں فروخت ہونے والے مکان کو فروخت کے بعد صرف ایک سال کے اندر واپس چھڑایا جا سکتا تھا۔ اگر اس مدت میں مالک اپنا مکان واپس نہ لے سکے تو وہ خریدار کی مستقل ملکیت بن جاتا تھا، حتیٰ کہ سالِ یوبلی میں بھی واپس نہیں کیا جاتا تھا۔
لیکن یروشلیم کے بارے میں ربانی روایات میں ایک دلچسپ تصور ملتا ہے کہ یہاں مکانوں کی خرید و فروخت اور ان کے چھڑانے کا معاملہ غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ یروشلیم کے باشندوں کو معاشی اعتبار سے ایسی برکت حاصل تھی کہ انہیں اپنے مکانات مستقل طور پر کھونے کی نوبت پیش نہیں آتی تھی۔
2۔ یروشلیم میں کبھی بچھیا کی گردن نہیں توڑی گئی
استثنا 21: 1-9، بالخصوص آیت 4
تورات میں ایک ایسا قانون موجود ہے جو اس وقت نافذ کیا جاتا تھا جب کسی مقتول شخص کی لاش کھلے میدان میں ملتی اور قاتل کا پتا نہ چلتا۔
اس موقع پر قریب ترین شہر کے بزرگ ایک بے عیب بچھیا کو ایسی وادی میں لے جاتے جہاں نہ کبھی ہل چلایا گیا ہو اور نہ بیج بویا گیا ہو۔ وہاں اس بچھیا کی گردن توڑی جاتی اور اس عمل کے ذریعے شہر کے بزرگ اپنی بے گناہی کا اظہار کرتے تھے۔
استثنا ( 21: 4 ) میں اس رسم کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔
یروشلیم کے متعلق ایک معروف ربانی روایت یہ ہے کہ اس شہر میں کبھی ایسی صورتِ حال پیش نہیں آئی جس میں اس قانون کے تحت بچھیا کی گردن توڑنے کی ضرورت پڑتی۔
یہ بات اپنی جگہ ایک دلچسپ مذہبی تصور ہے کہ جس شہر کو پاکیزگی اور تقدس کی علامت سمجھا جاتا تھا، اس کے بارے میں یہ روایت بھی محفوظ رہی کہ وہاں قتل کی ایسی نامعلوم واردات پیش نہیں آئی۔
3۔ یروشلیم کے گھروں میں کوڑھ کی بیماری نہیں پائی جاتی تھی
احبار 14: 33-53
تورات میں کوڑھ (Tzara’at) کا ذکر صرف انسانی جسم تک محدود نہیں، بلکہ گھروں کی دیواروں میں ظاہر ہونے والی مخصوص ناپاکی کے لیے بھی کیا گیا ہے۔
احبار 14 میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ اگر کسی گھر کی دیواروں پر سبز یا سرخی مائل دھبے نمودار ہوں تو کاہن اس گھر کا معائنہ کرے گا۔ بعض صورتوں میں گھر کو بند کیا جاتا، اس کے متاثرہ پتھر نکالے جاتے اور ضرورت پڑنے پر پورا گھر منہدم بھی کیا جا سکتا تھا۔
یہودی روایات میں یروشلیم کے گھروں کے متعلق یہ امتیاز بیان کیا گیا ہے کہ وہاں گھریلو کوڑھ (Tzara’at) ظاہر نہیں ہوتا تھا۔
یہ بات اس تصور کو مزید نمایاں کرتی ہے کہ یروشلیم کو صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ پاکیزگی کی ایک مخصوص علامت کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔
4۔ گھروں کی کھڑکیاں اور بالکونیاں گلی کی طرف نہیں نکالی جاتی تھیں
قدیم یروشلیم کے شہری نظم و ضبط سے متعلق ایک دلچسپ روایت یہ ہے کہ وہاں گھروں کے تعمیراتی ڈھانچے میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا تھا کہ کوئی حصہ گلی میں باہر کی طرف نہ نکلے۔
نہ بالکونیاں گلی کی حدود سے آگے بڑھائی جاتی تھیں اور نہ ہی ایسے شیڈز یا تعمیراتی حصے بنائے جاتے تھے جو راستے میں رکاوٹ پیدا کریں۔
اس کی ایک اہم وجہ شہر کے مذہبی اور اجتماعی تقدس کا تصور تھا۔ یروشلیم کی گلیاں عام راستے نہیں سمجھی جاتی تھیں، بلکہ ان سے عبادت گاہ اور ہیکلِ مقدسہ کی طرف جانے والے لوگ اور جلوس گزرتے تھے۔
چنانچہ شہری راستوں کو کشادہ، صاف اور رکاوٹوں سے پاک رکھنا ایک اہم معاشرتی اصول سمجھا جاتا تھا۔
5۔ یروشلیم میں کوڑے کے ڈھیر اور گندگی جمع کرنے کی اجازت نہیں تھی
آج کے شہروں میں جگہ جگہ کوڑے دان، کچرے کے ڈھیر اور گندگی کے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن قدیم یروشلیم کے متعلق ربیوں کی روایات ایک مختلف شہری تصور پیش کرتی ہیں۔
ان روایات کے مطابق شہر کے اندر گندگی، کچرے اور فضلے کو جمع کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایسے مواد کو شہر سے باہر منتقل کیا جاتا تھا تاکہ شہر کی صفائی اور تقدس برقرار رہے۔
یہاں ایک اہم بات قابلِ غور ہے کہ قدیم یروشلیم میں صفائی محض شہری انتظام کا مسئلہ نہیں تھی، بلکہ اسے مذہبی پاکیزگی اور اجتماعی ذمہ داری سے بھی جوڑا جاتا تھا۔
6۔ یروشلیم میں مجسمہ ساز اور دست کار نہیں رہ سکتے تھے
قدیم یروشلیم کے متعلق ایک اور دلچسپ روایت یہ ہے کہ وہاں ایسے پیشہ ور کاریگروں کی موجودگی پسندیدہ نہیں سمجھی جاتی تھی جو مجسمہ سازی یا ایسی اشیا کی تیاری کرتے تھے جن کا تعلق بت پرستانہ رسوم سے ہو سکتا تھا۔
یہودی مذہبی تعلیمات میں بت پرستی اور انسانی یا حیوانی اشکال کی عبادت کے لیے تیاری کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔
اسی تناظر میں یروشلیم کے بارے میں یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ وہاں ایسے کاریگروں کو رہنے کی اجازت نہیں تھی جن کا پیشہ مجسمہ سازی یا ممنوعہ مذہبی اشیا کی تیاری سے متعلق تھا۔
یہ پابندی شہر کے مذہبی تشخص اور اس کی مخصوص روحانی حیثیت کو برقرار رکھنے کے تصور سے وابستہ تھی۔
7۔ یروشلیم کے قدیم گلابوں کے باغات
یروشلیم کی تاریخ صرف پتھر کی دیواروں، عبادت گاہوں اور قدیم عمارتوں سے نہیں بنی، بلکہ اس شہر کی فطری خوب صورتی کا ذکر بھی تاریخی اور مذہبی روایات میں ملتا ہے۔
گلابوں کے باغات اور قدیم باغبانی سے متعلق بعض روایات یروشلیم کی تہذیبی زندگی کا ایک خوب صورت پہلو پیش کرتی ہیں۔
یہودی روایات میں قدیم باغات، ان کی خوشبو اور ان سے وابستہ معاشرتی زندگی کا ذکر ملتا ہے۔ بعض روایات ان باغات کی نسبت قدیم زمانوں اور انبیائی عہد سے بھی جوڑتی ہیں۔
یہ پہلو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یروشلیم کا تصور صرف ایک مذہبی شہر کا نہیں، بلکہ ایک ایسی تہذیب کا بھی ہے جہاں فطرت، خوب صورتی اور روحانیت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
8۔ یروشلیم میں باغات اور پھل دار باغ لگانے پر پابندی تھی
یہ نکتہ بظاہر ساتویں نکتے سے متضاد محسوس ہوتا ہے، لیکن قدیم یروشلیم کی بعض ربیوں کی روایات میں اس حوالے سے ایک مخصوص امتیاز بیان کیا گیا ہے۔
روایت کے مطابق شہر کے اندر ایسے باغات اور پھل دار درختوں کی کاشت کی اجازت نہیں تھی جن سے شہر کی زمین، صفائی یا ماحول متاثر ہو سکتا ہو۔
اس پابندی کے پیچھے یہ تصور تھا کہ شہر کے اندر ایسی سرگرمیوں کو محدود رکھا جائے جو بدبو، گندگی یا دیگر شہری مسائل پیدا کر سکتی ہوں۔
یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یروشلیم میں باغات لگانے پر پابندی تھی تو قدیم گلابوں کے باغات کا ذکر کیوں ملتا ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے قدیم باغات، ان کی نوعیت اور ربانی قوانین میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
9۔ یروشلیم میں مرغیاں پالنے کی اجازت نہیں تھی، مگر کبوتر رکھے جا سکتے تھے
یروشلیم کے متعلق یہودی ربیوں کی روایات میں ایک نہایت دلچسپ پابندی مرغیوں سے متعلق بھی بیان کی گئی ہے۔
روایت کے مطابق شہر میں مرغیاں پالنے کی اجازت نہیں تھی، جبکہ کبوتروں کے حوالے سے مختلف حکم موجود تھا۔
اس پابندی کی ایک بنیادی وجہ ہیکلِ مقدسہ کی پاکیزگی کو برقرار رکھنا تھی۔
مرغیاں زمین پر چلتی پھرتی ہیں، جگہ جگہ فضلہ کرتی ہیں اور انہیں قابو میں رکھنا بھی نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے خدشہ تھا کہ اگر وہ ہیکلِ مقدسہ یا اس کے مقدس احاطے میں داخل ہو گئیں تو وہاں ناپاکی کا سبب بن سکتی ہیں۔
اس کے برعکس کبوتروں کے متعلق مختلف رعایت کا تصور ملتا ہے۔
لیکن اس روایت کا ایک نہایت دلچسپ پہلو مسیح کے زمانے سے متعلق ہے۔
انجیل کے مطابق جب پطرس نے یسوع مسیح کا انکار کیا تو مرغ نے بانگ دی۔
اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر یروشلیم میں مرغیاں پالنا منع تھا اور یہودی روایات کے مطابق شہر میں مرغے نہیں ہونے چاہیں تھے، تو پھر پطرس کے انکار کے وقت مرغ کی بانگ کیسے سنائی دی؟
کیا اس وقت مرغ کسی دوسرے علاقے سے لایا گیا تھا؟ کیا اس پابندی کا اطلاق شہر کے تمام حصوں پر یکساں تھا؟ یا اس روایت کو سمجھنے کے لیے ہمیں قدیم یروشلیم کے جغرافیائی اور تاریخی حالات کا مطالعہ کرنا چاہیے؟ یا پھر اصل نسخے میں بات اور ہے ۔
یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر الگ سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔
10۔ یروشلیم میں میت کو رات بھر نہیں رکھا جاتا تھا
قدیم یروشلیم کے متعلق ایک اور اہم روایت تدفین کے طریقۂ کار سے متعلق ہے۔
یہودی مذہبی تعلیمات میں میت کی تدفین کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ تورات میں بھی سورج غروب ہونے سے پہلے میت کو دفن کرنے کی تاکید ملتی ہے۔
استثنا( 21 : 22-23) میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کو موت کے گھاٹ اتار کر درخت پر لٹکایا جائے تو اس کی لاش (نعش ) رات بھر درخت پر نہ رہنے دی جائے بلکہ اسی دن دفن کر دیا جائے۔
یروشلیم کے بارے میں علماء اکرم کی روایات میں یہ تصور ملتا ہے کہ شہر کے اندر کسی میت کو رات بھر نہیں رکھا جاتا تھا، بلکہ جلد از جلد تدفین کا انتظام کیا جاتا تھا۔
اس کی ایک وجہ شہر کی مذہبی پاکیزگی کا تصور تھا، کیونکہ یہودی قانون میں انسانی لاش ( نعش ) سے پیدا ہونے والی طہارتی ناپاکی (Tum’ah) کے احکام موجود ہیں۔
تاہم یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ یروشلیم شہر کے گردونواح میں قدیم یہودی قبریں اور تدفین کے مقامات موجود رہے ہیں۔
اختتامیہ: یروشلیم، ایک شہر یا ایک مقدس تصور؟
ان دس نکات پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم یہودی مذہبی تصور میں یروشلیم کی حیثیت محض ایک سیاسی دارالحکومت یا رہائشی شہر کی نہیں تھی۔ اس کی گلیوں، عمارتوں، صفائی، معاشرتی زندگی اور شہری قوانین تک کو مذہبی تقدس کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ یروشلیم سے متعلق ہمیں ایسے متعدد قوانین اور روایات ملتی ہیں جو بظاہر روزمرہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے ایک گہرا مذہبی اور روحانی تصور کارفرما ہے۔
میرے نزدیک ان روایات کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہاں تقدس صرف عبادت گاہ کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورے شہر کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔
اور شاید یہی وہ تصور ہے جو یروشلیم کو تاریخ کے دوسرے شہروں سے منفرد بناتا ہے۔
لیکن ایک سوال اب بھی باقی ہے:
اگر یروشلیم میں مرغیاں پالنے کی اجازت نہیں تھی تو پھر پطرس کے انکار کے وقت مرغ نے بانگ کیسے دی؟
اس پر اپنی راۓ ضرور دیں ۔
شالوم

