کلام کی تشریح کے درجے

آپ کو شاید اس آرٹیکل کا موضوع کچھ عجیب سا لگے مگر یہودی دانشوروں نے کلام کی تفسیر کے طریقے کو چار درجوں میں تقسیم کیا ہے۔ اسکو عبرانی میں "پردس، PRDS ” اور یونانی میں "پیراڈیسوس، Paradeisos” کہتے ہیں۔ "پردس” کا مطلب ہے جنگل، باغ یا پارک(سبزہ زار یا چراگاہ) جیسے کہ جنت یا فردوس۔ "پیراڈیسوس ” کا مطلب بھی سبزہ زار، باغ عدن یا فردوس ہی بنتا ہے۔

عبرانی میں "پردس” ان چار حروف کا سرنامیہ ہے:

پ – (پشات , P’shat) کا مطلب- سادہ یا لفظی (چوڑائی)

ر – (رمیز ,Remez )کا مطلب-اشارہ،  مثال یا تمثیل (لمبائی)

د – (دریش ,Derash) کا مطلب- ڈھونڈنا یا تلاش کرنا (انچائی)

س – (سود, Sod )کا مطلب- چھپا ہوا (گہرائی)

پشات، פְּשָׁט:

 کلام کی تشریح کا پہلا درجہ لفظی اور بالکل سادہ ہے۔ کہنے کو تو پہلا درجہ آسان اور بنیادی ہے مگر بہت اہم ہے۔  اسکا مطلب میں ایسے سمجھا سکتی ہوں ، جیسے کہ 1 کرنتھیوں 13:11 آیت میں لکھا ہے "جب میں بچہ تھا تو بچوں کی طرح بولتا تھا۔ بچوں کی سی طبیعت تھی۔ بچوں کی سی سمجھ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بچے مشکل باتیں نہیں سمجھ سکتے جب تک کہ عقل میں نہ بڑھ جائیں۔ آپ ان سے سادہ الفاظ میں بات کریں تو وہ جلد سمجھ جاتے ہیں۔ آپ پرائمری سے سیکنڈری سکول، مڈل سکول ہائی سکول اور کالج پھر یونیورسٹی جاتے ہیں۔ آپ کتنا پڑھنا چاہتے ہیں یہ آپ کی اپنی مرضی ہے۔ اسی طرح آپ کلام کے متعلق کہاں تک سیکھنا چاہتے ہیں یہ بھی آپ کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔ آپ پرائمری سکول میں صرف بنیادی باتیں سیکھتے ہیں جو آگے آپ کے لیے بڑی ضروری ہے۔ پشات بھی کلام کو سمجھنے کا پہلا درجہ ہے۔ آپ کلام کو پڑھتے ہیں اور اسے اپنے ذہن کے مطابق سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر خروج  20:2 اور 3

"خداوند تیرا خدا جو تجھے ملک مصر سے اور غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہوں ۔ میرے حضور توغیر معبودوں کو نہ ماننا۔”

اس سادہ سے جملے کا وہی لفظی مطلب ہے جو آپ پڑھ رہے ہیں۔

رمیز، רֶמֶז:

اسکا مطلب تھوڑا سا روحانی گہرائی میں ہے لیکن پھر بھی اتنا نہیں۔ کسی بھی آیت کے ایک سے زیادہ مطلب ہو سکتے ہیں۔ مثال ہمیں موازنہ کرنا سکھاتی ہے۔ مثال کے طور پر گلتیوں 4:22-26 میں اضحاق اور اسمعیل کی مثال کےحقیقی واقعہ کے ساتھ دو وعدوں کی طرف اشارہ ہے۔ حقیقی کہانی کے ساتھ جڑا روحانی مطلب۔ اس میں عبرانی حروف اور انکے عدد کا استعمال شامل ہے۔

دراش، דְּרַשׁ:

 کوئی بھی جو کلام کو تھوڑا بہتر سمجھنا شروع کر دیتا ہے وہ اپنے آپ کو اس درجے کی طرف لے کر آتا ہے۔ جیسے کہ پادری کلام کی آیات کو لے کر آپ کو  خدا کا پیغام دیتے ہیں۔ اگر پہلی دو بنیادیں غلط تو پیغام غلط ۔ آیات کا تقابل کس طرح سے کیا جاتا ہے۔ اگر توریت غیر کی مدد کا درس دے رہی ہے تو دراش اس سادہ سے حکم میں جڑے رحم، سخاوت اور انسانی ذمہ داری کے بڑے اصول بھی بیان کرتی ہے۔

سود، סוֹד:

 اسکی بہترین مثال مکاشفہ 13:18 میں حیوان کا عدد 666 ہے۔ چھپا ہوا گہرائی میں مطلب جو ہر انسان کی سمجھ میں آسانی سے آنے والا نہیں ہے۔ خالی پشات کے درجے پر رہ کر اس کو سمجھنا مشکل ہے۔

پردس کو نئے عہد نامے میں اس طرح سے بیان کیا گیا ہے:

افسیوں 3:17-19

اور ایمان کے وسیلہ سے مسیح تمہارے دلوں میں سکونت کرے تاکہ تم محبت میں جڑ پکڑ کے اور بنیاد قائم کر کے۔ سب مقدسوں سمیت بخوبی معلوم کر سکو کہ اس کی چوڑائی اور لمبائی اور اونچائی اور گہرائی کتنی ہے۔ اور مسیح کی اس محبت کو جان سکو جو جاننے سے باہر ہے تاکہ تم خدا کی ساری معموری تک معمور ہو جاو۔

اگر آپ نے قبالہ کے حوالے سے کبھی پڑھا ہے تو وہ اس درجے میں آتا ہے۔ زوہار کی کتاب میں توریت کی آیات کے اندر پوشیدہ روحانی راز بیان کئے گئے ہیں۔

میری آپ سب کے لیے دعا ہے کہ آپ خداوند کی محبت کی چوڑائی اور لمبائی اور اونچائی اور گہرائی جان سکیں تاکہ خداوند کی تمجید ہو۔

اردو میں اس آرٹیکل کو سننے کے لئے پلے بٹن دبائیں۔

Press play to hear this message in Urdu language.