گنتی 6 باب

آپ کلام مقدس سے گنتی 6 باب مکمل خود پڑھیں میں صرف وہی آیت لکھونگی جس کی ضرورت سمجھوں گی۔ اس باب میں ہم خاص نذیر کی منت اور برکاتِ کوہنیم (کاہنوں) یعنی کاہنوں کا بنی اسرائیل کو برکت کی دعا دینے کا پڑھتے ہیں۔ پہلے ہم نذیر کی منت پر بات کرتے ہیں۔ گنتی 6 باب پارشاہ ناسو کا حصہ ہے جس سے مراد اونچا کرنا،  سربلند کرنا یا اُٹھانا ہے۔

گنتی 6:1 سے2 میں ہم پڑھتے ہیں:

پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب کوئی مرد یا عورت نزیر کی منت یعنی اپنے آپ کو خداوند کے لئے الگ رکھنے کی خاص منت مانے۔

نذیر کون ہے؟ یہ تو ہمیں کلام کی اس آیت سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ کوئی بھی جو کہ اپنے آپ کو دنیاوی خواہشات سے ہٹا کر خاص خداوند کے لئے الگ رکھنے کی منت مانتا یا مانتی، وہ ںذیر ہے۔ تالمود کے مطابق یہ عرصہ عموماً 30 دن کا تھا جب نذیر اپنے آپ کو خاص خدا کی خدمت کے لئے وقف کر دیتے تھے۔ عبرانی لفظ נָזִיר نذیر, Nazir کا مطلب ہے "الگ کیا ہوا، وقف شدہ”. اس عبرانی لفظ کی جڑ "נזר” ہے آپ کو عبرانی کلام میں یہ لفظ مختلف اعراب (نیقودوت) کے ساتھ گنتی 6:7 سے8 میں نظر آئے گا۔ میں عبرانی میں یہ آیات دکھا رہی ہوں تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ جہاں یہ "נזר” لفظ  ہے وہاں اعراب کے فرق سے اسکا ترجمہ "تاج” بنتا ہے مگر اردو کلام میں اسے نذارت لکھا گیا ہے جو کہ غلط نہیں ہے۔

7 לְאָבִ֣יו וּלְאִמּ֗וֹ לְאָחִיו֙ וּלְאַ֣חֹת֔וֹ לֹא־יִטַּמָּ֥א לָהֶ֖ם בְּמֹתָ֑ם כִּ֛י נֵ֥זֶר אֱלֹהָ֖יו עַל־רֹאשֽׁוֹ׃ 8 כֹּ֖ל יְמֵ֣י נִזְר֑וֹ קָדֹ֥שׁ ה֖וּא לַֽיהוָֽה׃

7 وہ اپنے باپ یا ماں یا بھائی یا بہن کی خاطِر بھی جب وہ مَریں اپنے آپ کو نجِس نہ کرے کیونکہ اُس کی نذارت جو خُدا کے لِئے ہے اُس کے سر پر ہے۔ 8 وہ اپنی نذارت کی پُوری مُدّت تک خُداوند کے لِئے مُقدّس ہے۔

نذیر خداوند کے لئے مُقدس ہوتا تھا۔ جو نذیر کی منت مانتا تھا اُسے خاص شراب اور انگور/مے سے اجتناب برتنا تھا۔ نذارت کی منت کے دنوں میں بال نہیں کٹوا سکتے تھے۔ اور لاش سے دور رہنا تھا۔  مقصد یہی تھا کہ جس نے منت مانگی ہے وہ جسمانی لذت سے دور رہے اور رسمی پاکیزگی کا خاص خیال رکھے۔ ویسے تو کاہنوں کو لاش سے دور رہنے کا خاص حکم تھا کہ وہ کن کی خاطر اپنے آپ کو لاش کی ناپاکیزگی سے نجس کر سکتے تھے اور کن سے ہرگز نہیں۔ نذیر کا بھی رتبہ  سردار کاہن کی طرح نذارت کے ان ایام میں بلند ہوجاتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے قریبی رشتےداروں کی موت ہر بھی نجس نہیں کر سکتے تھے۔ اگر وہ لاش سے ناپاک ہوجاتے تھے تو وہ پھر سے اپنی نذارت کے ایام کو پورا کرتے۔ انھیں اپنی نذارت کے ایام کے اختتام پر خاص قربانیاں بھی گذراننی ہوتی تھیں جن میں خظا اور سوختنی اور سلامتی کی قربانی اور نذر کی قربانی اُن کے تپاون کے ساتھ  شامل تھی۔ جرم کی قربانی نذارت کے ایام ٹوٹنے کے سبب لانی ہوتی تھی۔

اس منت کو خاص ماننے کا مقصد یہی تھا کہ کوئی بھی اپنے آپ کو خداوند کے لئے سربلند کرسکتا ہے ویسے ہی جیسے کہ کاہن تھے۔ ہمیں کلام میں بزرگ سموئیل اور سمسون کا ذکر ملتا ہے جو کہ نذیر کا رتبہ رکھتے تھے۔ نئے عہد نامے میں یوحنا بپتسمہ دینے والے کا رُتبہ بھی یہی تھا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ خطا کی قربانی کیوں لائی جاتی تھی۔

ہمیں یہی سکھایا اور بتایا جاتا ہے کہ یشوعا کی قربانی کے سبب قربانیاں موقوف ہوگئیں تھیں مگر اگر ایسا تھا تو پھر پولس رسول کیوں آمادہ ہوئے کہ وہ قربانیاں ہیکل میں چڑھائیں؟  اسکے لئے آپ اعمال 21 باب کی ان آیات کو دیکھیں کہ پولس رسول شریعت پر عمل کرکے درستی سے چلتے تھے۔

23 اِس لِئے جو ہم تُجھ سے کہتے ہیں وہ کر۔ ہمارے ہاں چار آدمی اَیسے ہیں جِنہوں نے مَنّت مانی ہے۔ 24 اُنہیں لے کر اپنے آپ کو اُن کے ساتھ پاک کر اور اُن کی طرف سے کُچھ خرچ کر تاکہ وہ سر مُنڈائیں تو سب جان لیں گے کہ جو باتیں اُنہیں تیرے بارے میں سِکھائی گئی ہیں اُن کی کُچھ اصل نہیں بلکہ تُو خُود بھی شرِیعت پر عمل کر کے درُستی سے چلتا ہے۔ 25 مگر غَیر قَوموں میں سے جو اِیمان لائے اُن کی بابت ہم نے یہ فَیصلہ کر کے لِکھا تھا کہ وہ صِرف بُتوں کی قُربانی کے گوشت سے اور لہُو اور گلا گھونٹے ہُوئے جانوروں اور حرام کاری سے اپنے آپ کو بچائے رکھّیں۔
26 اِس پر پَولُس اُن آدمِیوں کو لے کر اور دُوسرے دِن اپنے آپ کو اُن کے ساتھ پاک کر کے ہَیکل میں داخِل ہُؤا اور خبر دی کہ جب تک ہم میں سے ہر ایک کی نذر نہ چڑھائی جائے تقدُّس کے دِن پُورے کریں گے۔
بزرگوں نے ان کو جو غیر قوم سے تھے اور مسیح پر ایمان لا رہے تھے انکو خاص نوحی شریعت پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا مگر تمام بزرگ بمعہ پولس رسول کے شریعت پر ہی عمل کرتے تھے۔ اور انھیں منت پوری کرنے کے لئے خطا کی قربانی بھی لانے میں کوئی مسلہ درپیش نہیں تھا۔ قربانیاں ہیکل کی تباہی کے سبب سے موقوف ہوئیں تھیں اسلئے نہیں کہ مسیح نے یا انکے شاگردوں نے خداوند کے حکم کو بدلا۔ ویسے تو پولس رسول نے خود بھی منت مانی تھی (اعمال 18:18) اور اپنے بال منڈوائے تھے۔ انھوں نے تو نہیں کہا کہ اب شریعت مجھ پر لاگو نہیں ہوتی اسلئے مجھے منت نہیں ماننی۔ جب تک آپ کو توریت، نبیوں کے صحیفوں اور تحریرات کی سمجھ نہیں آئے گی تب تک آپ کو نئے عہد نامے کی تعلیم  بھی صحیح سمجھ میں نہیں آئے گی۔
گنتی 6:22 سے 27 میں خداوند نے کاہنوں کو بنی اسرائیل کو خاص خداوند کے نام میں برکت دینے کا حکم دیا۔ اس برکت کے الفاظ یوں ہیں؛
24 خُداوند تُجھے برکت دے اور تُجھے محفُوظ رکھّے۔
25 خُداوند اپنا چہرہ تُجھ پر جلوہ گر فرمائے اور تُجھ پر
مِہربان رہے۔
26 خُداوند اپنا چہرہ تیری طرف مُتوجِّہ کرے اور تُجھے
سلامتی بخشے۔
ایک عام پادری یا شخص ان آیات کو یوں دوسروں کو برکت دینے کے لئے استعمال نہیں کرسکتا ہے کیونکہ یہ اختیار صرف کاہنوں کو ہے کہ وہ بنی اسرائیل کو یوں برکت دے۔ کوئی بھی یہودی مرد یا عورت اپنے گھر میں تو برکت کے ان الفاظ کو اپنی دعا میں استعمال کر سکتا ہے مگر وہ کسی بھی جماعت کو یوں برکت دینے کا اختیار ہرگز نہیں رکھتے۔
ان آیات میں جہاں اردو میں "خداوند” لکھا یے وہ عبرانی خداوند کا وہ نام ہے جو زبان پر نہیں لانا چاہیے۔ مسیحی بغیر سوچے سمجھے اس پاک نام کو ایسے استعمال کرتے ہیں جیسے خداوند کی طرف سے اجازت ہے۔ کبھی میں بھی یہ بات نہیں جانتی تھی اسلئے پرانے آرٹیکلز اور مسیجز میں خداوند کا نام استعمال کرتی تھی مگر جب سے عقل آئی ہے میں بھی خداوند کا نام اپنی زبان پر لانے سے پرہیز کرتی ہوں۔ خداوند کا نام پاک نام ہے۔ جس زبان سے آپ دوسروں کو گالی گلوچ اور برا بھلا کہتے رہتے ہیں کیا اُسی زبان سے خداوند کا پاک نام زبان پر لایا جا سکتا ہے؟ اور جو اختیار آسمانی باپ نے کاہنوں کو دیا ہے اس اختیار کو آپ کو اپنے ہاتھوں میں نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ آسمانی باپ کی توہین کرنا ہوگا۔
خداوند نے چاہا تو ہم اگلی دفعہ گنتی کے 7 باب پر بات کریں گے۔ خداوند آپ کو اپنے کلام کی سمجھ عطا فرمائیں۔ آمین